Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 258

By Maulana Wahiduddin Khan

مسائل کے موزوں حل کے لیے بہترین نظام زندگی بھی ہے، اور انفرادی اور اجتماعی زندگی کی صالح اور ترقی پذیر تعمیر صرف اسی کے قیام سے ممکن ہے۔ اس دین کی اقامت کا مطلب یہ ہے کہ کسی تفریق و تقسیم کے بغیر اس پورے دین کی مخلصانہ پیروی کی جائے اور ہر طرف سے یکسو ہو کر کی جائے اور انسانی زندگی کے انفرادی واجتماعی تمام گوشوں میں اسے اس طرح جاری و نافذ کیا جائے کہ۔ فرد کا ارتقا، معاشرہ کی تعمیر اور ریاست کی تشکیل سب کچھ اسی دین کے مطابق ہو۔ یہی بات اس فکر کے تحت پیدا شدہ لٹریچر میں بار بار مختلف انداز سے دہرائی گئی ہے ایک مضمون کے چند فقرے یہ ہیں: ”اسلام (عام معنوں میں) کسی مذہب کا اور مسلمان کسی قوم کا نام نہیں ہے۔ بلکہ دراصل اسلام ایک انقلابی نظریہ و مسلک ہے جو تمام دنیا کے اجتماعی نظم کو بدل کر اپنے نظریہ و مسلک کے مطابق تعمیر کرنا چاہتا ہے اور مسلمان اس بین الاقوامی انقلابی جماعت کا نام ہے، جسے اسلام اپنے مطلوبہ انقلابی پروگرام کو عمل میں لانے کے لیے منظم کرتا ہے۔ اور جہاد اس انقلابی جدوجہد کا، اس انتہائی صرف طاقت کا نام ہے، جو اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے عمل میں لائی جائے۔“ ”یہ دعوت جو لوگ بھی قبول کر لیں .......... اسلامی جماعت کے رکن بن جاتے ہیں اور اس طرح وہ بین الاقوامی انقلابی پارٹی تیار ہوتی ہے جسے قرآن حزب اللہ کے نام سے یاد کرتا ہے .......... یہ پارٹی وجود میں آتے ہی اپنے مقصد وجود کی تحصیل کے لیے جہاد شروع کر دیتی ہے۔ اس کے عین وجود کا اقتضا یہی ہے کہ یہ غیر اسلامی نظام کی حکمرانی کو مٹانے کی کوشش کرے اور اس کے مقابلے میں تمدن واجتماع کے اس معتدل و متوازن ضابطہ کی حکومت قائم کرے جسے قرآن ایک جامع نام کلمۃ اللہ سے تعبیر کرتا ہے۔“

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page