دین
Urdu book, p. 259
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ مذہبی تبلیغ کرنے والے وعظین اور مبشرین کی جماعت نہیں بلکہ خدائی فوجداروں کی جماعت ہے۔ اور اس کا کام یہ ہے کہ دنیا سے ظلم ، فتنه ، فساد ، بد اخلاقی ، طغیان اور ناجائز انتفاع کو بزور مٹا دے ، ارباب من دون اللہ کی خداوندی کو ختم کر دے اور بدی کی جگہ نیکی قائم کرے۔ لہٰذا اس پارٹی کے لیے حکومت کے اقتدار پر قبضہ کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے ، کیوں کہ مفسدانہ نظام تمدن ایک فاسد حکومت کے بل پر ہی قائم ہوتا ہے اور ایک صالح نظام تمدن اس وقت تک کسی طرح قائم نہیں ہو سکتا جب تک حکومت مفسدین سے مسلوب ہو کر مصلحین کے ہاتھ میں نہ آ جائے۔ ( تفہیمات ، حصہ (1) ، جہاد فی سبیل اللہ ) یہاں میں ایک اور اقتباس نقل کروں گا جس میں زیادہ تفصیل کے ساتھ اس نقطۂ نظر کو بیان کیا گیا ہے۔ اسلامی نصب العین کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں : " اس سوال کا جواب قرآن مجید میں جو کچھ دیا گیا ہے وہ یہ ہے : هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ ( 9:33 ) ۔ یعنی ، وہی ہے ( یعنی اللہ ) جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ، تا کہ اس کو پوری جنس دین پر غالب کر دے ۔ خواہ یہ کام مشرکوں کو کتنا ہی نا گوار ہو۔ اس آیت میں الٰہی سے مراد دنیا میں زندگی بسر کرنے کا صحیح طریقہ ہے۔ انفرادی برتاؤ ، خاندانی نظام ، سوسائٹی کی ترکیب ، معاشی معاملات ، ملکی انتظام ، سیاسی حکمت عملی ، بین الاقوامی تعلقات ، غرض زندگی کے تمام پہلوؤں میں انسان کی زندگی کے لیے صحیح رویہ کیا ہونا چاہیے ، یہ چیز اللہ نے اپنے رسول کو بتا کر بھیجا ہے۔ دوسری چیز جو اللہ کا رسول لے کر آیا ہے وہ دین حق ہے۔ دین کے معنی اطاعت کے ہیں۔ کیش اور مذہب کے لیے جو دین کا لفظ استعمال ہوتا ہے یہ اس کا اصل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader