دوسرا مرحلہ
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
7۔ بعض ایسے لوگ ملے جنہوں نے میری تحریر دیکھنے کے بعد اپنے اس یقین کا تو بڑی شدت سے اظہار کیا کہ ”مولانا مودودی نے دین کی جو تشریح کی ہے وہ بالکل صحیح ہے“ اور یہ کہ ”تمہاری تحریر میں مغالطوں اور پھپسے دلائل کے سوا اور کچھ نہیں “۔ مگر شدید اصرار کے باوجود ان میں سے کسی نے یہ زحمت نہیں گوارا فرمائی کہ میرے دلائل کا تجزیہ کر کے بتائیں کہ وہ کس طرح دلیل نہیں بلکہ محض مغالطہ ہیں۔ انہوں نے میرے کسی ایک اعتراض کو علمی طور پر رد نہیں کیا۔ اور اپنے دعوے کی کوئی ایک دلیل بھی نہیں دی، مگر اس کے باوجود اپنی بات کو اس طرح دہراتے رہے گویا ان کا برسر حق ہونا اور میرا برسر باطل ہونا اتنا واضح ہے کہ اس کے لیے کسی دلیل اور ثبوت کی ضرورت نہیں۔ آپ تعجب نہ کریں اگر میں کہوں کہ یہ معمولی ارکان نہیں تھے، بلکہ وہ لوگ تھے جو جماعت کے علما میں شمار ہوتے ہیں اور ذمہ دارانہ مناصب پر فائز ہیں۔ 8۔ بعض ایسے بھی خدا کے بندے ملے جنہوں نے کہا کہ اس کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے بلکہ توقف کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت کے وہ لوگ جو براہ راست دین کا علم رکھتے ہیں، انھیں چاہیے کہ اس پر غور کر کے اس کا جواب دیں۔ اس قسم کے ایک بزرگ سے میں نے پوچھا ”جماعت کے خلاف اب تک جو مضامین نکلتے رہے ہیں کیا میری تحریر کو آپ اسی قسم کی ایک چیز سمجھتے ہیں۔“ انہوں نے جواب دیا ”جماعت کی مخالفت میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ سب میں باقاعدگی سے دیکھتا رہوں، مگر آپ کی تحریر میں اور اس میں کوئی نسبت نہیں۔“ میری تحریر ان کے نزدیک غور طلب تھی، جبکہ دوسری تحریروں کے متعلق ان کا خیال تھا کہ وہ اس قابل بھی نہیں ہیں کہ ان پر غور کیا جائے۔ 9۔ اب تک جماعت کے جن لوگوں سے میری ملاقات ہوئی بلا استثناء میں نے محسوس کیا کہ کسی کے پاس میری باتوں کا کوئی جواب نہیں ہے، مگر کوئی بھی اپنے بارے میں اس اعتراف کے لیے تیار نہیں ہوا، البتہ ایک صاحب اس سے مستثنیٰ ہیں، ان کے تبصرے کی روداد جو میری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader