Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 260

By Maulana Wahiduddin Khan

معنی موضوع لہ نہیں ہے بلکہ اس کو دین اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس میں بھی انسان خیال و عمل کے ایک خاص سسٹم کی اطاعت کرتا ہے۔ ورنہ دراصل دین کا لفظ قریب قریب وہی معنی رکھتا ہے جو زمانۂ حال میں ’’اسٹیٹ‘‘ کے معنی ہیں۔ لوگوں کا کسی بالاتر اقتدار کو تسلیم کر کے اس کی اطاعت کرنا، یہ ’’اسٹیٹ‘‘ ہے۔ یہی دین کا مفہوم بھی ہے، اور ’’دین حق‘‘ یہ ہے کہ انسان دوسرے انسانوں کی، خود اپنے نفس کی، اور تمام مخلوقات کی بندگی و اطاعت چھوڑ کر صرف اللہ کے اقتدار اعلیٰ کو تسلیم کرے اور اسی کی بندگی و اطاعت اختیار کرے۔ پس در حقیقت اللہ کا رسول اپنے بھیجنے والے کی طرف سے ایک ایسے ’’اسٹیٹ‘‘ کا نظام لے کر آیا ہے۔ جس میں نہ تو انسان کی خود اختیاری کے لیے کوئی جگہ ہے ، نہ انسان پر انسان کی حاکمیت کے لیے کوئی مقام بلکہ حاکمیت و اقتدار اعلیٰ جو کچھ بھی ہے صرف اللہ کے لیے ہے۔ پھر رسول کے بھیجنے کا مقصد یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اس نظام اطاعت (دین) اور اس قانون حیات (الھدیٰ) کو پوری جنس دین پر غالب کر دے۔ پوری جنس دین سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں انسان انفرادی یا اجتماعی طور پر جن جن صورتوں سے کسی کی اطاعت کر رہا ہے وہ سب ’’جنس دین‘‘ کی مختلف انواع ہیں۔ بیٹے کا والدین کی اطاعت کرنا، بیوی کا شوہر کی اطاعت کرنا، نوکر کا آقا کی اطاعت کرنا، ماتحت کا افسر کی اطاعت کرنا، رعیت کا حکومت کی اطاعت کرنا، پیروؤں کا پیشواؤں اور لیڈروں کی اطاعت کرنا، یہ اور ایسی ہی بے شمار اطاعتیں بحیثیت مجموعی ایک نظام اطاعت بناتی ہیں اور اللہ کی طرف سے رسول کے آنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ پورا نظام اطاعت اپنے تمام اجزاء سمیت ایک بڑی اطاعت اور ایک بڑے قانون کے ماتحت ہو جائے، تمام اطاعتیں اللہ کی اطاعت کے تابع ہوں، ان سب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page