Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 261

By Maulana Wahiduddin Khan

کو منضبط (Regulate) کرنے والا ایک اللہ ہی کا قانون ہو، اور اس بڑی اطاعت اور اس ضابطہ قانون کی حدود سے باہر کوئی اطاعت باقی نہ رہے۔ یہ رسول کا مشن ہے اور رسول اس مشن کو پورا کرنے پر مامور ہے خواہ شرک کرنے والے اس پر کتنی ہی ناک بھوں چڑھائیں۔ شرک کرنے والے کون ہیں؟ وہ سب لوگ جو اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی میں اللہ کی اطاعت کے ساتھ دوسری مستقل بالذات (یعنی خدا کی اطاعت سے آزاد) اطاعتیں شریک کرتے ہیں۔ جہاں تک اللہ کے قانون طبعی (Law of Nature) کا تعلق ہے۔ ہر انسان طوعاً و کرہاً اس کی اطاعت کر رہا ہے، کیوں کہ اس کی اطاعت کے بغیر اس کے لیے کوئی چارہ ہی نہیں ہے۔ مگر جہاں تک انسان کے دائرہ اختیار کا تعلق ہے، اس دائرے میں بعض انسان تو بالکل ہی غیر اللہ کے مطیع بن جاتے ہیں اور بعض انسان اپنی زندگی کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے کسی حصہ میں خدا کے بھیجے ہوئے قانون اخلاقی (شریعت) کی اطاعت کرتے ہیں اور کسی دوسرے حصہ میں اپنے نفس کی یا دوسروں کی اطاعت کرتے ہیں۔ اسی چیز کا نام اللہ کی اطاعت کے ساتھ دوسری اطاعتوں کو شریک کرنا ہے۔ اور جو لوگ شرک کی ان مختلف صورتوں میں مبتلا ہیں ان کو یہ بات ناگوار ہوتی ہے کہ اپنی فطری اطاعت کی طرح اپنی اختیاری اطاعت و بندگی کو بھی بالکلیہ اللہ کے لیے خالص کر دیں۔ خواہ نادانی کے سبب سے یا اخلاقی کمزوری کے سبب سے، بہر حال وہ شرک پر اصرار کرتے ہیں۔ لیکن اللہ کے رسول پر یہ فرض عائد کیا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کی مزاحمت کے باوجود اپنے مشن کو پورا کرے۔ (مسلمان اور سیاسی کشمکش، جلد 3، اسلام کی راہ راست اور اس سے انحراف کی راہیں) اوپر کے اقتباسات میں جو بات کہی گئی ہے وہ اصلاً کوئی غلط بات نہیں ہے۔ لیکن جب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page