Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 262

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی کو علی الاطلاق ایمان کا نصب العین قرار دیا جائے تو یقیناً وہ غلط ہو جاتی ہے۔ کیوں کہ مومن کی زندگی کا اصل مقصد خدا سے تعلق پیدا کرنا ہے، خدا سے انتہائی طور پر لپٹ جانا، اس سے ہمہ تن متعلق ہو کر زندگی گزارنا، یہی وہ اصل مقصود ہے، جس کے لیے انسان کی تخلیق عمل میں آئی ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جس کو پانے کے لیے مومن کو اپنی ساری توجہ صرف کرنی چاہیے۔ دنیا میں مومنہ نہ عمل کا اصل نشانہ خدا سے جڑنا ہے، نہ کہ کسی مخصوص اسٹیٹ کا نظام قائم کرنا۔ اجتماعی انقلاب برپا کرنا یا زندگی کے نظام کو قسط و عدل پر قائم کرنا، ایمان کا ایک تقاضا ہے جو مختلف حالات میں مختلف شکل اختیار کرتا ہے۔ میرا یہ حال ہے کہ جب میں سڑک پر چلتا ہوں اور لاؤڈ اسپیکر پر بجتے ہوئے فلمی گانے کی آواز میرے کان میں آتی ہے تو جی چاہتا ہے کہ کاش میرے پاس وہ طاقت ہوتی جس سے میں اس خرافات کو بالکل بند کر دیتا۔ جب میں روزانہ اخبار پڑھتا ہوں اور اس میں دیکھتا ہوں کہ شیاطین انس نے لیڈر اور رہنماء بن کر زمین کو فساد سے بھر دیا ہے تو دماغ جیسے کھولنے لگتا ہے اور یہ تمنا ابھر آتی ہے کہ کوئی ایسی شکل ہوتی کہ ان مفسدین سے زمین کو پاک کیا جا سکتا۔ جب میں عوام الناس کو دیکھتا ہوں کہ وہ انسان کے بنائے ہوئے احمقانہ قوانین کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں اور غلط معاشی نظام کے نیچے پس رہے ہیں۔ تو سارے بدن میں ایک آگ سی لگ جاتی ہے اور یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس جال کو توڑ ڈالوں اور اس نظام کو تہس نہس کر دوں ، جب میں دیکھتا ہوں کہ وقت کا با اقتدار طبقہ اقتدار پا کر فرعون بن گیا ہے اور ملکی اور بین الاقوامی زندگی کو جہنم بنا دیا ہے تو بے اختیار جی چاہتا ہے کہ کاش میرے لیے یہ ممکن ہوتا کہ میں ان تمام مجرمین کو جیل بھیج دیتا اور انسانیت کو ان کے تخت و تاراج سے رہائی دلا دیتا۔ جب میں دیکھتا ہوں کہ شرار کی قیادت نے دنیا کا یہ حال کر دیا ہے کہ زمین کے بہترین ذرائع و وسائل صرف جنگی تیاریوں میں برباد کیے جا رہے ہیں، اور سیاست صرف اس کا نام رہ گئی ہے کہ ہر ممکن طریقہ سے اپنے اقتدار کو باقی رکھنے کی کوشش کی جائے، تو جی چاہتا ہے کہ ایسے حکمرانوں کو خود انھیں کے تیار کیے ہوئے آنتیں گڑ ہوں میں دھکیل دوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page