Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 263

By Maulana Wahiduddin Khan

جوانھوں نے اپنے فرضی دشمنوں اور سیاسی مخالفوں کے لیے بنارکھے ہیں۔ ممکن ہے میرے ان جذبات میں کچھ انتہا پسندی ہو۔ مگر میں یقین کے ساتھ جانتا ہوں کہ اگر کسی کے دل میں ایمان پیدا ہوا ہے تو وہ خارجی حالات کے بارے میں اس قسم کے احساسات سے خالی نہیں ہوسکتا، مومن کی لازمی صفت ہے کہ وہ دنیا کے بگاڑ کو دیکھ کر کڑھ رھے، اس کی اصلاح کی تدبیر سوچے ۔ اس کو دور کرنے کے لیے اپنے بس بھر کوشش کرے۔ لیکن اگر کوئی شخص کہے کہ یہی اہل ایمان کا اصل مشن ہے اور یہی وہ اصل کام ہے جس کے لیے تمام انبیاء بھیجے گئے تھے، تو میں کہوں گا کہ یہ بات اتنی ہی غلط ہے جتنا یہ کہنا کہ خارجی بگاڑ کا مسلمان سے کوئی تعلق نہیں ، اس کے بارے میں اسے کچھ سوچنا نہیں چاہیے۔ اگر آپ ایک ایسے مکان میں داخل ہوں جس میں ہر طرف غلاظت اور کوڑا کرکٹ بھرا ہوا ہو تو بے شک نظافت ایمانی کا تقاضا ہے کہ آپ اس کو شدت کے ساتھ محسوس کریں اور اس کو نکال پھینکنے کے لیے کمر بستہ ہو جائیں۔ لیکن اگر آپ یہ کہنے لگیں کہ " ایمان کا اصل مقصود یہ ہے کہ گھروں کی صفائی کی جائے"۔ تو یہ بات بجائے خود بالکل لغو ہوگی اور اس قابل ہوگی کہ اس کی تردید کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اجتماعی اصلاح اور تمدنی انقلاب کی بات ایک معلوم و معروف بات ہونے کے باوجود " اسلامی مشن" کی حیثیت سے ثابت نہیں ہوتی۔ اسلامی مشن کا یہ تصور کہ اسلام ایک بہترین سیاسی اور تمدنی نظام ہے، اور اس نظام کو جاری و نافذ کرنا وہ کام ہے جو خدا کی طرف سے ہمارے سپرد ہوا ہے، یہ اسلامی مشن کا ایک ایسا تصور ہے جس سے قرآن کے صفحات نا آشنا ہیں، مجھے کتاب الہی میں کوئی ایک فقرہ بھی ایسا نہیں ملا جس سے اس نقطہ کو واقعی طور پر اخذ کیا جا سکتا ہو۔ اس سلسلے میں جن آیتوں کے حوالے دیے جاتے ہیں۔ ان کو اگلے صفحات میں نقل کر کے ان پر مختصر گفتگو کروں گا۔ ا۔ پہلی آیت ہے: وَ كَذٰلِكَ جَعَلۡنٰكُمۡ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوۡنُوۡا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُوۡنَ الرَّسُوۡلُ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page