Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 264

By Maulana Wahiduddin Khan

عَلَيْكُمْ شَهِيداً (2:143)۔ یعنی، اور اس طرح ہم نے تم کو امت وسط بنایا ہے تا کہ تم لوگوں کے اوپر گواہ ہو، اور رسول تم پر گواہ ہو۔ اس آیت کو سمجھنے کے لیے جب ہم علمائے تفسیر کی طرف رجوع کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ تقریباً سب کے سب اس میں شہادت سے مراد ایک ایسا کام لیتے ہیں، جس کا تعلق اس دنیا سے نہیں بلکہ آخرت سے ہے۔ یعنی یہ کہ قیامت میں سابق انبیاء اور ان کی مخالف قوموں کے مقدمہ میں امت محمد شاہد کی حیثیت سے پیش کی جائے گی۔ اس تفسیر کی بنیاد ان روایات پر ہے جن میں خبر دی گئی ہے کہ: "قیامت کے روز بعض ایسے نبی ہوں گے جن کے ساتھ صرف ایک یا دو یا اس سے کچھ زیادہ ایمان لانے والے ہوں گے، بقیہ پوری قوم نے ان کا انکار کیا ہوگا۔ پھر اس قوم کو بلایا جائے گا جس کی طرف وہ مبعوث کیے گئے تھے۔ قوم سے پوچھا جائے گا، کیا تم کو ہمارا پیغام پہنچا تھا۔ قوم کے لوگ جواب دیں گے، نہیں۔ پھر نبی سے پوچھا جائے گا، وہ کہے گا ہاں۔ میں نے پہنچا دیا تھا۔ پوچھا جائے گا کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟ نبی اس کے جواب میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کا نام لے گا۔ پھر آپ اور آپ کی امت بلائی جائے گی اور اس سے پوچھا جائے گا۔ کیا اس نبی نے اپنا پیغام رسالت اپنی قوم تک پہنچا دیا تھا، وہ جواب دیں گے ہاں، پھر ان گواہوں سے پوچھا جائے گا کہ تمہارا زمانہ تو بعد کا ہے، تم کو کیسے معلوم ہوا۔ وہ کہیں گے کہ ہمارے رسول نے ہم کو اس کی خبر دی تھی۔ یہی مطلب ہے اس آیت کا وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطاً لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ (2:143) (ایک اور روایت کے مطابق) اس کے بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے امت کا حال دریافت کیا جائے گا تو آپ امت کے عادل ہونے کی گواہی دیں گے۔ یہ مطلب ہے اس آیت کا وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيداً “۔ (مسند احمد، حدیث نمبر 11283 ، 11558) اس حدیث کو نقل کرتے ہوئے علامہ آلوسی بغدادی لکھتے ہیں:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page