Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 265

By Maulana Wahiduddin Khan

لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ أي سائر الأمم يوم القيامة بأن الله تعالى قد أوضح السبل وأرسل الرسل فبلغوا ونصحوا وهو غاية - للجعل - المذكور (تفسیر روح المعانی ، جلد 1، صفحہ 404) ۔ یعنی، شہادت سے مراد قیامت کے روز تمام گمراہ قوموں کے بارے میں اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا راستہ ان کے سامنے واضح کر دیا تھا، اور رسول بھیجے جنھوں نے حق کو پہنچایا اور خیر خواہی کا حق ادا کر دیا۔ آیت میں جَعَلْنَا کے لفظ سے اس امت کے جس تقرر کا ذکر کیا گیا ہے اس کا مقصد یہی ہے۔ ابو حیان اندلسی نے اس آیت کے سلسلے میں علما کی تشریحات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: أَحَدُهَا: مَا عَلَيْهِ الْأَكْثَرُ مِنْ أَنَّهَا فِي الْآخِرَةِ، وَهِيَ شَهَادَةُ هَذِهِ الْأُمَّةِ لِلْأَنْبِيَاءِ عَلَى أُمَمِهِمُ الَّذِينَ كَذَّبُوهُمْ، وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ نَصًّا فِي الْحَدِيثِ فِي الْبُخَارِيِّ وَغَيْرِهِ (البحر المحیط ، جلد 2، صفحہ 12)۔ یعنی، ایک رائے یہ ہے، اور بیشتر علماے تفسیر اسی کے حق میں ہیں کہ اس شہادت کا تعلق آخرت سے ہے اور وہ یہ کہ پچھلی قومیں جنھوں نے اپنے انبیاء کی تکذیب کی تھی۔ ان کے خلاف یہ امت انبیاء کی طرف سے بطور گواہ پیش ہوگی۔ شہادت کی یہ تفسیر بخاری اور دوسری کتب حدیث کی روایات سے ثابت ہے۔ تاہم اس آیت میں ایک مزید مفہوم لینے کی گنجائش ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قیامت میں لوگوں سے جو گرفت ہوگی، وہ ظاہر ہے کہ اسی بنیاد پر ہوگی کہ دنیا میں انھیں حق کا پیغام پہنچا تھا، مگر اس کے باوجود انھوں نے نہیں مانا۔ دوسرے لفظوں میں گمراہ قوموں کے بارے میں آخرت کی عدالت میں جس واقعہ کی شہادت دی جائے گی، وہ ایک ایسا واقعہ ہوگا جو پہلے اسی دنیا میں پیش آ چکا تھا، اس طرح آخرت کی شہادت خود اس بات کی متقاضی ہے کہ اس سے پہلے دنیا میں حق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page