دین
Urdu book, p. 266
By Maulana Wahiduddin Khan
کی شہادت دی جا چکی ہو۔ ے دنیا میں شہادت دینے یا آخرت میں پیش آنے والے مقدمہ سے لوگوں کو باخبر کرنے کا یہ کام پہلے پیغمبروں کے ذریعہ انجام پاتا تھا۔ اور ختم نبوت کے بعد امت محمدی اس کی ذمہ دار ہے۔ چنانچہ بعض شاذ تفسیر میں اس قسم کی بھی ملتی ہیں جن میں شہادت کا یہ دنیوی مفہوم بتایا گیا ہے۔ ابوحیان اندلسی نے ایک رائے مندرجہ ذیل الفاظ میں نقل کی ہے: وَقِیلَ: مَعْنَاهُ لِتُنَقِّلُوا إِلَيْهِمْ مَا عَلِمْتُمُوهُ مِنَ الْوَحْيِ وَالدِّينِ كَمَا نَقَلَهُ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم (البحر المحيط، جلد 2، صفحہ 12)۔ یعنی، بعض لوگوں نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ دین کا جو علم تمھیں ملا ہے اس کو دوسروں تک اس طرح منتقل کرو جیسے رسول نے اسے تم تک پہنچایا ہے۔ اس مفہوم کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ خواہ اس مخصوص آیت میں اس کام کا ذکر نہ ہو۔ مگر علم دین کو دوسروں تک پہنچانے کی ذمہ داری ایک معلوم ذمہ داری ہے، جو دوسرے نصوص سے ثابت ہے، اور یہ بھی صریح نص سے ثابت ہے کہ تبلیغ و دعوت کا یہ کام اسی لیے انجام دینا ہے کہ آخرت میں لوگوں کے اوپر اللہ تعالیٰ کا مقدمہ قائم ہو سکے: رُسُلاً مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ (4:165)۔ یعنی، رسولوں کو خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجا تا کہ لوگوں کے پاس اللہ کے اوپر کوئی حجت باقی نہ رہے۔ اگر ہم شہادۃ کی آیت میں ان ساری گنجائشوں کو مان لیں تو اس کے بعد بھی جو چیز ثابت ہوتی ہے وہ صرف دعوت و تبلیغ یا انذار و تبشیر ہے۔ یعنی یہ کہ لوگوں کو اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ کر دیا جائے کہ مرنے کے بعد آخرت آنے والی ہے اور حساب و کتاب ہونا ہے، تا کہ جب لوگ میدان حشر میں اکٹھا کیے جائیں، اور ان سے ان کے اعمال کی باز پرس ہو تو کوئی یہ نہ کہے ے أَصْلُ الشَّهَادَةِ: الْإِخْبَارُ بِمَا شَهِدَهُ۔ (لسان العرب، جلد 13، کالم 1، صفحہ 240)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader