دین
Urdu book, p. 267
By Maulana Wahiduddin Khan
سکے کہ آپ ہم سے ایسی چیز کا حساب لے رہے ہیں، جس سے ہم کو باخبر نہیں کیا گیا تھا۔ حکومت الہیہ قائم کرنے کا مشن پھر بھی اس آیت سے نہیں نکلتا۔ 2- دوسری آیت جو اس سلسلے میں پیش کی جاتی ہے ۔ وہ حسب ذیل ہے: شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰ أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ (42:13)۔ یعنی، خدا نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا اس نے نوح کو اور ابراہیم کو اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا، اور اے محمد تمہاری طرف بھی ہم نے اس کی وحی کی ہے، یہ کہ اس دین پر قائم رہو اور اس میں متفرق نہ ہو۔ اس آیت سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ اس دین سے مراد وہ سارے انفرادی و اجتماعی، قومی اور بین الاقوامی احکام ہیں جو اسلامی شریعت میں ملتے ہیں۔ اور اقامت کا مطلب ہے ان کو قائم کرنا اس طرح یہ آیت پورے شرعی نظام کو مکمل طور پر انسانی زندگی میں غالب و نافذ کرنے کا حکم دے رہی ہے۔ اقامت کا اصل مفہوم ہے۔ کسی کام کا حق ادا کرنا، اس کو ٹھیک ٹھیک انجام دینا: اِقَامَةُ الشَّيْءِ: تَوْفِيَةُ حَقِّه (المفردات في غريب القرآن، صفحہ 692) خارجی حکم کے نفاذ کے لیے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے۔ مگر اس کا اصل مفہوم متعلقہ فعل کی مکمل انجام دہی ہے، نہ کہ اس کا نفاذ۔ حدیث میں آتا ہے کہ سورہ مومنون کی ابتدائی آیتیں نازل ہوئیں تو آپ نے فرمایا: لَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيَّ عَشْرُ آيَاتٍ مَنْ أَقَامَهُنَّ دَخَلَ الجَنَّةَ (مستدرک الحاكم، حدیث نمبر 3521)۔ یعنی، مجھ پر دس آیتیں اتری ہیں۔ جوان کی اقامت کرے وہ جنت میں جائے گا۔ ان دس آیتوں میں جو احکام دیے گئے ہیں وہ یہ ہیں۔ نماز میں خشوع اختیار کرنا، لغو سے پرہیز کرنا۔ زکوٰۃ پر عامل ہونا، شرمگاہ کی حفاظت کرنا، امانت اور عہد کو پورا کرنا، نمازوں کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader