دین
Urdu book, p. 268
By Maulana Wahiduddin Khan
نگہبانی کرنا۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام انفرادی نوعیت کے احکام ہیں، اس لیے ان کو غالب اور نافذ کرنے کا کوئی سوال نہیں۔ یہاں ”اقامت“ کا مطلب یہ ہے کہ ان کو پوری طرح اختیار کر لیا جائے۔ ان کو اپنی زندگی میں مکمل طور پر شامل کیا جائے۔ آیت کی مذکورہ تفسیر ایسی تفسیر ہے، جو میرے علم کی حد تک کسی قابل ذکر مفسر نے اب تک نہیں کی ہے۔ تمام علمائے تفسیر اس آیت میں الدین سے مراد اصل دین یا دین کی بنیادی تعلیمات لیتے ہیں، نہ کہ کل دین۔ ان کے نزدیک یہاں اقامت دین سے مراد سارے شرعی نظام کو لوگوں کے اوپر قائم کرنا نہیں ہے، بلکہ دین کے اس بنیادی حصہ کو پوری طرح اختیار کرنا ہے جو ہر شخص سے اور ہر حال میں لازمی طور پر مطلوب ہے۔ اور جس کو اپنی زندگی میں پوری طرح شامل کر لینے کے بعد کوئی شخص خدا کی نظر میں مسلمان بنتا ہے: .......المُرادُ سائِرُ ما يَكُونُ المَرءُ بِإِقَامَتِهِ مُسْلِمًا (الکشاف للزمخشری، جلد 4، صفحہ 215؛ مدارک التنزيل للننفی، جلد 3، صفحہ 248)۔ زیر بحث تعبیر کے حلقہ میں اس آیت کا ترجمہ ”دین قائم کرو“ کیا جاتا ہے۔ یہ ترجمہ غلط تو نہیں ہے مگر وہ غلط فہمی پیدا کرتا ہے۔ ترجمہ کے یہ الفاظ خاص طور پر زیر بحث تعبیر کے پیدا کردہ فکر کے پس منظر میں یہ مفہوم اختیار کر لیتے ہیں کہ ”دین کو غالب اور نافذ کرو“ یا یہ کہ ”اپنی ذات سے لے کر ساری دنیا تک اسے زندگی کے تمام شعبوں میں جاری کرو“۔ حالانکہ أَقِيمُوا الدِّينَ کے فقرے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے۔ اصل مفہوم کے اعتبار سے اردو میں اس کا زیادہ بہتر ترجمہ یہ ہوگا ”دین پر قائم رہو“۔ چنانچہ اردو مترجمین نے عام طور پر اس کا ترجمہ ”دین قائم کرو“ نہیں کیا ہے۔ بلکہ تقریباً سب کا ترجمہ وہی ہے، جو ہم نے اپنے ترجمہ میں اختیار کیا ہے۔ چند مشہور علما کے ترجمے یہاں نقل کیے جاتے ہیں: شاہ عبد القادرٌ : یہ کہ قائم رکھو دین اور پھوٹ نہ ڈالو۔ شاہ رفیع الدین : یہ کہ قائم رکھو دین اور متفرق ہو نہ پہنچ اس کے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader