دین
Urdu book, p. 269
By Maulana Wahiduddin Khan
عبدالحق حقانی ؔ : اسی دین پر قائم رہنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا۔ اشرف علی تھانوی ؔ : اسی دین کو قائم رکھنا اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنا۔ ڈپٹی نذیر احمد ؔ : اسی دین کو قائم رکھنا اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنا۔ شیخ الہند محمود الحسن ؔ : قائم رکھو دین کو اور اختلاف نہ ڈالو اس میں۔ یہاں "الدین" سے اساسات دین مراد ہونے کا ایک قرینہ یہ بھی ہے کہ اگلی آیات میں دین حق کے بالمقابل دین باطل کے جو اجزاء بیان کیے گئے ہیں وہ صرف بنیادی امور سے متعلق ہیں، یہ امور قرآن کے الفاظ میں حسب ذیل ہیں: حُجَّتُهُمْ فِي اللَّهِ (42:16) ، مِرَاءٍ فِي السَّاعَةِ (42:18) حرث دنیا کی طلب (42:20) ۔ ان تینوں باتوں کے ذکر کے بعد ارشاد ہوا ہے: أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَنْ بِه اللَّهُ (42:21) ۔ یعنی، کیا ان کے کچھ دوسرے خدا ہیں جنہوں نے ان کے لیے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی۔ علامہ آلوسی بغدادی نے یہاں دین شرک سے یہی تین چیزیں مراد لی ہیں، ان کے الفاظ یہ ہیں: "أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِنَ الدِّينِ" مَا لَمْ يَأْذَنْ بِه اللَّهُ كَالشَّرِكِ وَإِنْكَارِ البَعْثِ وَالعَمَلِ لِلدُّنْيا (تفسیر روح المعانی، جلد 3، صفحہ 28) ۔ یعنی، شرکاء نے ان کے لیے جو دین باطل وضع کیا ہے، وہ ہے— شرک، آخرت کا انکار اور دنیا کے لیے عمل کرنا۔ دین باطل کے یہ بنیادی اجزاء بتارہے ہیں کہ دین حق کے وہ بنیادی اجزاء کیا ہیں جن کی طرف مشرکین کو اس کے بجائے دعوت دی جارہی ہے— وہ ہے توحید، دوسری زندگی کا یقین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader