دوسرا مرحلہ
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈائری میں درج ہے، وہ حسب ذیل ہے: میں نے آپ کے مضمون کو کئی بار نہایت غور سے پڑھا، بلکہ اس کا ”مطالعہ“ کیا، مگر میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں اس سے صرف استفادہ کر سکتا ہوں، اس پر تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں، انہوں نے کہا کہ نتائج اور شبہات والے ابواب سے مجھے تقریباً سو فیصد اتفاق ہے، مگر اس کے جو نظریاتی اسباب آپ نے بتائے ہیں ان سے اپنے آپ کو متفق نہ کر سکا، میں جماعت اسلامی کے موجودہ نصب العین کو درست سمجھتا ہوں، مگر اس وقت میرے پاس اس کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے، ویسے آپ کی تحریر کے جواب میں میرے دوسرے ساتھی جس قسم کی باتیں کہہ رہے ہیں اس طرح کی باتیں میں بھی کر سکتا ہوں، مگر میرے نزدیک وہ محض الل ٹپ باتیں ہیں، وہ آپ کے اعتراضات کا جواب نہیں ہیں، میں نہیں سمجھتا کہ اس قسم کی باتوں سے آپ کے مضمون کی تردید ہو جائے گی۔“ اس طرح کے چند آدمی اور ملے جنہوں نے میرے خیالات اور میرے تجزیے سے مکمل یا بڑی حد تک اتفاق کیا۔ 10۔ ایک بزرگ جو مجلس شوریٰ کے رکن بھی ہیں، ان کو دو ملاقاتوں کے موقع پر میں نے اپنی تحریر مطالعہ کے لیے دی، انہوں نے تحریر تو پڑھ لی، مگر اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ میں نے بار بار اصرار کیا مگر انہوں نے نفیاً یا اثباتاً کچھ بھی نہیں بتایا۔ البتہ آخری ملاقات میں ایک موقع پر ایسا ہوا کہ ایک گفتگو میں میری زبان سے نکلا: ”یہ بہت بڑی صداقت ہے یا بہت بڑا فریب“۔ انہوں نے جواب دیا: ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ چھوٹی سی صداقت یا بہت بڑا فریب ہو۔“ 11۔ ایک بزرگ نے فرمایا” آپ نے اپنی تحریر میں ہمارے استدلالات کو غلط ثابت کیا ہے لیکن اگر کوئی دلیل غلط ثابت ہو جائے تو اس سے لازمی طور پر مدلول کا غلط ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ میں نے کہا بے شک آپ صحیح کہتے ہیں، لیکن موجودہ دلائل کی غلطی تسلیم کرنے کے باوجود اگر آپ اصل دعوے کو صحیح سمجھ رہے ہیں تو ایسا سمجھنے میں آپ اسی وقت بجانب ہو سکتے ہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader