Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 270

By Maulana Wahiduddin Khan

اور آخرت کے لیے عمل ۔ ان تین اجزاء کی طرف دین حق سے متعلق آیتوں میں بھی اشارے موجود ہیں ملاحظہ ہو مذکورہ سورہ الشوریٰ کی چوتھی، ساتویں اور بارہویں آیت ۔ اس رائے کی بنیاد آیت کے الفاظ ہیں۔ کیوں کہ پوری آیت کو سامنے رکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ایک ایسے دین کی اقامت کا حکم دیا جارہا ہے ، جو حضرت نوح سے لے کر آخری رسول تک تمام انبیاء پر اترا تھا، اب چوں کہ مختلف انبیاء پر نازل کی جانے والی تعلیمات اپنی پوری شکل میں یکساں نہیں تھیں ۔ عقائد اور بنیادی اصولوں کی حد تک تو ان سب کا دین بالکل ایک تھا، مگر تفصیلی شریعت اور عملی احکام میں ان کے درمیان کافی فرق تھا، اس لیے حکم کے الفاظ کے مطابق اس سے دین کا وہی حصہ مراد ہوسکتا ہے، جو سب میں مشترک رہا ہو ، امام رازی لکھتے ہیں : أَنَّهُ عَطَفَ عَلَيْهِ سَائِرَ الْأَنْبِيَاءِ وَذَلِكَ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ هُوَ الْأَخْذُ بِالشَّرِيعَةِ الْمُتَّفَقِ عَلَيْهَا بَيْنَ الْكُلِّ ( تفسیر الرازی ، جلد 27، صفحہ 587) ۔ یعنی ، حضرت نوح پر تمام انبیاء کا عطف ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حکم کا مطلب شریعت کے اس حصہ پر پوری طرح عامل ہونا ہے جو تمام انبیاء کے درمیان متفق علیہ ہے۔ چنانچہ امام رازی نے آیت کی تشریح مندرجہ ذیل الفاظ میں کی ہے : وَأَقُولُ يَجِبُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ مِنْ هَذَا الدِّينِ شَيْئًا مُغَايِرًا لِلتَّكَالِيفِ وَالْأَحْكَامِ، وَذَلِكَ لِأَنَّهَا مُخْتَلِفَةٌ مُتَفَاوِتَةٌ قَالَ تَعَالَى: لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجاً (المائدة: 48) فَيَجِبُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ مِنْهُ الْأُمُورَ الَّتِي لَا تَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ الشَّرَائِعِ، وَهِيَ الْإِيمَانُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَالْإِيمَانُ يُوجِبُ الْإِعْرَاضَ عَنِ الدُّنْيَا وَالْإِقْبَالَ عَلَى الْآخِرَةِ وَالسَّعْيَ فِي مَكَارِمِ الْأَخْلَاقِ وَالِاحْتِرَازَ عَنْ رَذَائِلِ الْأَحْوَالِ “ (تفسیر الرازی ، جلد 27، صفحہ 587) ۔ یعنی، ضروری ہے کہ الدین سے کوئی ایسی شی مراد ہو جو احکام اور عملی ذمے داریوں کے علاوہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page