دین
Urdu book, p. 271
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے، کیوں کہ یہ چیزیں قرآن کی تصریح کے مطابق مختلف انبیاء کے درمیان مختلف رہی ہیں۔ پس لازم ہے کہ یہاں الدین سے مراد ایسے امور ہوں، جن میں شریعتوں کے اختلاف سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اور وہ ہے ایمان خدا پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور یوم آخرت پر اور ایمان سے پھر اور چیزیں پیدا ہوتی ہیں— دنیا سے اعراض، آخرت کی طرف لپک، اچھے اخلاق کو اختیار کرنا، اور برے اخلاق سے بچنا۔ مولانا اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں: ”مراد اس دین سے اصول دین ہیں جو مشترک ہیں تمام شرائع میں، مثل توحید ورسالت و بعث ونحوہ۔ اور قائم رکھنا یہ کہ اس کو تبدیل مت کرنا، اس کو ترک مت کرنا۔“ (بیان القرآن، سورہ شوریٰ، آیت 13) یہی رائے تمام مفسرین نے دی ہے۔ کسی بھی قابل ذکر تفسیر میں مجھے آیت کا یہ مفہوم نہیں ملا کہ ”دین کے تمام انفرادی واجتماعی احکام کو زندگی کے سارے شعبوں میں نافذ کرو“۔ یہاں میں چندرائیں نقل کرتا ہوں: ابو العالیہ — ”إِقَامَةُ الدِّينِ: الإِخْلَاصُ لِلّهِ وَعِبَادَتُهُ“ (البحر المحیط فی التفسیر جلد 9، صفحہ 329)۔ یعنی، اس آیت میں اقامت دین کا مطلب خدا کے لیے اخلاص اور اس کی عبادت ہے۔ مجاہد — ”لم يُبْعَثْ نَبِيٌّ إِلَّا أُمِرَ بِإِقَامَةِ الصَّلاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالإِقْرَارِ بِاللَّهِ تعالی وطاعتِهِ سُبحانَهُ، وَذلكَ إِقامةُ الدِّينِ“ (تفسیر روح المعانی، جلد 3، صفحہ 231)۔ یعنی، اللہ نے ہر نبی کو حکم دیا تھا کہ وہ نماز قائم کرے، زکوۃ دے، اللہ کا اقرار کرے، اس کی اطاعت کرے اور اسی کا نام اقامت دین ہے۔ ابو حیان — ”وَهُوَ مَا شَرَعَ لَهُمْ مِنَ الْعَقَائِدِ الْمُتَّفَقِ عَلَيْهَا، مِنْ تَوْحِيدِ اللَّهِ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader