Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 272

By Maulana Wahiduddin Khan

و طَاعَتِهِ، وَالإِيمَانِ بِرُسُلِهِ وَبِكُتُبِهِ وَبِالْيَوْمِ الآخِرِ، وَالْجَزَاءِ فِيهِ“(البحر المحیط فی التفسیر، جلد 9، صفحہ 328)۔ یعنی، یہ ان متفقہ عقائد کا نام ہے جو توحید، خدا کی اطاعت، رسولوں پر ایمان، اس کی کتابوں پر ایمان، یوم آخرت پر ایمان اور جزائے اعمال سے متعلق ہیں۔ خازن—“وَالْمُرَادُ بِإِقَامَةِ الدِّينِ هو توحیدُ اللهِ والإیمانُ به وبِكُتُبِهِ ورُسُلِهِ واليومِ الآخِرِ، وطاعةُ اللهِ في أوامِرِهِ ونَواهیه، وسائرُ ما يكونُ الرَّجُلُ به مُسْلِمًا، ولم يُرِدِ الشرائعَ التي هي مَصالحُ الأمَمِ على حَسَبِ أحوالِها فَإِنَّها مُخْتَلِفَةٌ مُتَفاوِتَةٌ. “ قال الله تعالى: ”لِكُلِّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا“ (لباب التاویل، جلد 4، صفحہ 96)۔ یعنی، یہاں اقامت دین سے مراد توحید خدا اور اس کی کتابوں اور رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لانا ہے، اور احکام و ممنوعات میں اس کی اطاعت کرنا ہے۔ اور ان سب چیزوں پر عمل کرنا ہے، جن پر عمل کرنے سے کوئی شخص مسلمان بنتا ہے۔ یہاں دین سے مراد شریعیتیں نہیں ہیں، جو امتوں کے حالات کے تحت ان کی مصلحت کے پیش نظر نازل ہوتی ہیں۔ کیوں کہ قرآن کی تصریح کے مطابق وہ مختلف ہیں۔ آلوسی بغدادی— ”أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ، أَي دينِ الإسلامِ الذي هو توحيدُ اللهِ تعالى وطاعَتُهُ، والإيمانُ بِكُتُبِهِ ورُسُلِهِ وبيومِ الجزاءِ، وسائرُ ما يكونُ العبدُ به مؤمنًا، والمُرادُ بِإِقَامَتِهِ تَعديلُ أركانِهِ وحفظُهُ مِن أن يَقَعَ فِيهِ زَيْعٌ والمُواظَبَةُ عليه.“ (تفسیر آلوسی روح المعانی، جلد 13، صفحہ (27)۔ یعنی، دین اسلام جو کہ توحید، خدا کی اطاعت، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم جزاء پر ایمان کا نام ہے۔ اور وہ سب کچھ جس سے کوئی شخص مومن بنتا ہے، اور اقامت دین سے مراد اس کے ارکان کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنا، اس کی نگہداشت اور اس پر دوام۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page