Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 273

By Maulana Wahiduddin Khan

نظام الدین قمی نیشاپوری ـــ هو إقامةُ الدِّينِ، یعنی إقامۀ اُصولِہ من التوحيدِ والنبوّةِ والمعادِ ونحوِ ذلِكَ، دونَ الفُرُوعِ التي تختلِفُ بحَسَبِ الأوقاتِ، لقولہ: {لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجاً} (تفسیر غرائب القرآن، جلد 6، صفحہ 70) ــ یعنی، توحید، نبوت، آخرت پر قائم ہونا اور اس قسم کی دوسری اصولی تعلیمات کو اپنانا جوان فروعات کے علاوہ ہیں جن میں مختلف شریعتوں کے درمیان اختلاف رہا ہے ۔ قرطبی ـــ ”وَهُوَ تَوْحِيدُ اللَّهِ وَطَاعَتُهُ، وَالإِيمَانُ بِرُسُلِهِ وَكُتُبِهِ وَبِيَوْمِ الْجَزَاءِ، وَبِسَائِرِ مَا يَكُونُ الرَّجُلُ بِإِقَامَتِهِ مُسْلِمًا. وَلَمْ يُرِدِ الشَّرَائِعَ الَّتِي هِيَ مَصَالِحُ الْأُمَمِ عَلَى حسبِ أَحْوَالِهَا، فَإِنَّهَا مُخْتَلِفَةٌ مُتَفَاوِتَةٌ“ (تفسیر القرطبی، جلد 16، صفحہ 10) ــ یعنی، اس کا مطلب ہے خدا کی توحید کا اقرار اور اس کی اطاعت۔ اس کے رسولوں پر، اس کی کتابوں پر اور روزِ آخرت پر ایمان لانا، اور وہ سب کچھ جس کی اقامت سے آدمی مسلمان بنتا ہے۔ یہاں شریعتیں مراد نہیں ہیں جو امتوں کے حالات کے تحت ان کی مصلحت کے مطابق دی جاتی ہیں کیوں کہ وہ ہمیشہ مختلف رہی ہیں۔ ابن کثیر ـــ ”القَدْرُ المُشْتَرَكُ بَيْنَهُمْ هُوَ عِبَادَةُ اللَّهِ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَإِنْ اخْتَلَفَتْ شَرَائِعُهُمْ وَمَنَاهِجُهُمْ“ (تفسیر ابن کثیر، جلد 7، صفحہ 197) ــ یعنی، انبیاء کی تعلیمات کا قدر مشترک جو بلا شرکت ایک خدا کی عبادت کرنا ہے اگرچہ اس کے سوا ان کی شریعت اور طریقے باہم مختلف ہیں۔ حافظ الدین نسفی ـــ ”أَي شَرَعَ لَكُم مِنَ الدِّينِ دِينَنَ نوحٍ ومحمَّدٍ وما بينَهما مِن الأنبياءِ عليهم السَّلام، ثم فسَّرَ المشروعَ الذي اشتركَ هؤلاءِ الأعلامُ مِن رُسُلِهِ فيه بقولہ: {أَن أَقِيمُوا الدِّينَ}، والمُرادُ إقامةُ دينِ الإسلامِ، الذي هو توحيدُ اللَّهِ وطاعتُهُ، والإيمانُ برُسُلِهِ وكُتبِهِ وبيومِ الجزاءِ، وسائرُ ما يكونُ المرءُ بإقامتِهِ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page