Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 274

By Maulana Wahiduddin Khan

مُسْلِمًا، وبما يُرادُ به الشَّرائِعَ فإنَّها مُختلفةٌ، قال الله تعالى: {لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَمِنْهَاجًا} ومَحَلُّ {أَنْ أَقِيمُوا} نَصْبُ بَدَلٌ من مفعولٍ {شَرْعَ} والمعطوفين عليه، أو رفعُ على الاستِئنافِ، كأنَّهُ قيلَ: وما ذلك المشروعُ؟ فقيلَ: هو إقامَةُ الدِّينِ“ (مدارک التنزيل، جلد 3، صفحہ 248)۔ یعنی، تمہارے لیے دین میں سے دین نوح دین محمد اور ان کے درمیان آنے والے نبیوں کے دین کو مشروع کیا، اس کے بعد اس مشروع کو بتایا جس میں یہ انبیائے عظام مشترک رہے ہیں۔ فرمایا: ان أقيموا الدين یہاں دین اسلام کی اقامت سے مراد ہے: توحید، خدا کی اطاعت، رسولوں اور کتابوں اور یوم جزا پر ایمان، اور وہ سب چیزیں جن کو اختیار کر لینے سے کوئی شخص مسلمان بنتا ہے۔ اس حکم میں انبیائے کی شریعتیں مراد نہیں ہیں کیوں کہ وہ مختلف انبیائے کے درمیان مختلف رہی ہیں۔ نحوی ترکیب کے لحاظ سے أن أقيموا الدين یا تو محل نصب میں ہے، کیوں کہ وہ شرع کے مفعول کا بدل ہے۔ یا وہ علیحدہ جملہ ہے اور محل رفع میں ہے۔ گویا سوال تھا وہ کیا چیز ہے جو مشروع کی گئی ہے فرمایا: وہ ہے اس (متفق علیہ) دین پر قائم ہو جانا۔ ان اقتباسات سے ظاہر ہے کہ آیت کے مخصوص الفاظ کی بنا پر یہاں مفسرین نے دین کی بنیادی تعلیمات کو پوری طرح اختیار کرنا مراد لیا ہے۔ ایسی حالت میں اس کا یہ مطلب لینا کیوں کر صحیح ہوسکتا ہے کہ دین کے تمام انفرادی و اجتماعی احکام کو زندگی کے سارے شعبوں میں نافذ کرو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اصل دین کے علاوہ شریعت کے اجتماعی اور تمدنی قوانین ہمارے لیے ”اقامت“ کا موضوع نہیں ہیں۔ میں صرف یہ ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ ان کی اقامت اس طرح مطلق لفظوں میں ہم پر فرض نہیں کی گئی ہے، جیسے یہ تعبیر اس کو ہم پر فرض کرنا چاہتی ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن کے ان مقامات سے اس تعبیر کے حق میں استدلال نہیں ملتا جہاں فی الواقع

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page