دین
Urdu book, p. 275
By Maulana Wahiduddin Khan
دین کے اجتماعی احکام کے نفاذ کا حکم دیا گیا ہے۔ مثلاً: یَا دَاوُدُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَى (38:26)۔ یعنی، اے داؤد، ہم نے تم کو زمین میں خلیفہ (حاکم) بنایا ہے تو لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرو۔ اس کے برعکس، وہ ہمیشہ ایسی آیتوں سے نکلتی ہوئی نظر آتی ہے جو اصل مسئلہ سے غیر متعلق ہیں۔ جیسے کوئی شخص زمین کی انفرادی ملکیت کا مخالف ہو، اور قرآن سے سماجی ملکیت کا نظریہ ثابت کرنا چاہتا ہو تو اس کو قرآن کے ان الفاظ میں اپنا مدعا نظر نہیں آئے گا، جہاں معاشی قوانین کا ذکر ہے۔ اس کے بجائے وہ الارض للہ کے فقرہ سے استدلال کرے گا، کیوں کہ ان دو الفاظ کا مجرد ترجمہ لے کر بڑی خوبی سے ان میں اپنا نظریہ فٹ کیا جا سکتا ہے۔ حالاں کہ اس فقرے کا کھیت اور کارخانہ کی ملکیت کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں۔ تمام غیر قرآنی نظریات کا بہترین ماخذ ہمیشہ غیر متعلق آیتیں رہی ہیں۔ اس سلسلے کی تیسری آیت حسب ذیل ہے: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ ۚ فَإِنِ انتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (8:39)۔ یعنی، اور تم ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے، اور دین پورا کا پورا اللہ کے لیے ہو جائے۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ دیکھنے والا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔ بعینہ یہی آیت قرآن میں ایک اور جگہ آئی ہے، البتہ وہاں کُلُّہٗ کا لفظ نہیں ہے (البقرۃ، 2:193)۔ کہا جاتا ہے کہ اس آیت میں "دین اسلام کے پیرووں کو حکم دیا گیا ہے کہ دنیا سے لڑو اور اس وقت تک دم نہ لو، جب تک فتنہ، یعنی ان نظامات کا وجود دنیا سے نہ مٹ جائے جن کی بنیاد خدا سے بغاوت پر قائم ہے" (قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں، مبحث "دین")۔ اس کی مزید تفصیل یہ ہے کہ فتنہ کی حالت سے مراد "سوسائٹی کی وہ حالت ہے جس میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader