Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 276

By Maulana Wahiduddin Khan

بندوں پر بندوں کی خدائی وفرماں روائی قائم ہو، اور جس میں اللہ کے قانون کے مطابق زندگی بسر کرنا ممکن نہ رہے“ اور ”باز آجانے سے مراد کافروں کا اپنے کفر و شرک سے باز آجانا نہیں بلکہ (مذکورہ بالا) فتنہ سے باز آجانا ہے، کافر، مشرک، دہریے، ہر ایک کو اختیار ہے کہ اپنا جو عقیدہ رکھتا ہے رکھے اور جس کی چاہے عبادت کرے یا کسی کی نہ کرے۔ اس گمراہی سے ان کو نکالنے کے لیے ہم اسے فہمائش اور نصیحت کریں گے۔ مگر اس سے لڑیں گے نہیں۔ لیکن اسے یہ حق ہرگز نہیں ہے کہ خدا کی زمین پر خدا کے قانون کے بجائے اپنے باطل قوانین جاری کرے اور خدا کے بندوں کو غیر از خدا کسی کا بندہ بنائے۔ اس فتنے کو دفع کرنے کے لیے حسب موقع اور حسب امکان تبلیغ اور شمشیر دونوں سے کام لیا جائے گا، اور مومن اس وقت تک چین سے نہ بیٹھے گا جب تک کفار اپنے اس فتنے سے باز نہ آجائیں“۔ (تفہیم القرآن، سورہ البقرۃ، حاشیہ نمبر 205-204) اس استدلال کو سمجھنے کے لیے پہلے قرآن کے وہ دونوں مقامات اپنے سامنے رکھ لیجیے، جہاں یہ حکم آیا ہے: فَاقْتُلُوهُمْ كَذَلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ۔ فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ۔ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ (2:191-193)۔ یعنی، پس انھیں قتل کرو، یہی سزا ہے ایسے کافروں کی۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔ دوسرا ٹکڑا حسب ذیل ہے: قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ يَنْتَهُوا يُغْفَرْ لَهُمْ مَا قَدْ سَلَفَ وَإِنْ يَعُودُوا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْأَوَّلِينَ۔ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (8:38-39)۔ یعنی، ان کافروں سے کہو دو کہ اگر وہ باز آجائیں تو انھیں بخش دیا جائے گا، اور اگر سابقہ روش پر باقی رہیں گے تو پچھلی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page