دین
Urdu book, p. 277
By Maulana Wahiduddin Khan
قوموں کے بارے میں قانون نافذ ہو چکا ہے۔ اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنه باقی نہ رہے اور دین سب اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔ پھر اگر وہ باز آ جائیں تو اللہ ان کے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔ آیت کے الفاظ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں عقیدہ کو چھیڑے بغیر محض اُس قسم کا ایک دنیوی نظام قائم کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے جو اوپر کی تشریح میں مذکور ہے، بلکہ یہاں در اصل عقیدہ ہی کو بدلنے کے لیے جنگ کرنے کا حکم ہے: 1۔ آیت کے الفاظ کے مطابق کفار جس ”فتنہ“ میں مبتلا ہیں اور جس کی بنا پر ان سے جنگ کا حکم دیا جا رہا ہے، اس سے اگر وہ باز آ جائیں تو ان کی ”مغفرت“ کردی جائے گی۔ ظاہر ہے کہ مغفرت محض سیاسی اقتدار چھوڑنے یا فساد دنیا سے باز آ جانے کا صلہ نہیں ہے، بلکہ وہ صرف ان لوگوں کا حصہ ہے جو کفر و شرک کو چھوڑ دیں۔ 2۔ ارشاد ہوا ہے— قُل لِلَّذِينَ كَفَرُوا إِن يَنتَهُوا الآيَة ، فقرے کی یہ ساخت بتاتی ہے کہ یہاں نحوی اعتبار سے إِن يَنتَهُوا عَنِ الْكُفْرِ ہی مراد لیا جا سکتا ہے، یعنی اگر وہ کفر سے باز آ جائیں تو ان کے لیے بخشائش ہے، ورنہ نہیں۔ 3۔ پھر اس حکم کا جو منشا مہبط وحی نے سمجھا اور جس کے مطابق آپ نے اپنے دشمنوں سے فتنے کے لغوی معنی شرک کے نہیں ہیں، بلکہ شرک اس کا مصداق ہے۔ فتنے کے اصل معنی ہیں تنانا۔ اسی سی اس لفظ میں جانچنے اور آزمائش میں ڈالنے کا مفہوم پیدا ہوا۔ پھر ان بری چیزوں کو بھی فتنه کہنے لگے جن میں آزمائش میں پڑنے والا شخص عموماً مبتلا ہو جاتا ہے۔ مثلاً کفر اور ظلم وغیرہ۔ ابن اثیر لکھتے ہیں : وَقَدْ كَثُرَ استعمالها فيما أَخْرَجه الاختِبار لِلمكْرُوہِ، ثُمَّ كَثُرَ حَتَّى اسْتُعْمِلَ بِمَعْنَى الإِثْمِ، والكُفْرِ، والقتالِ، والإِحراق، والإِزالَةِ، والصَّرفِ عَنِ الشَّيْءِ (النهایة فی غریب الحدیث والأثر، جلد 3، صفحه 411)۔ اسی لیے اہل لغت اس لفظ کی تشریح میں اس کے اصل مفہوم کے ساتھ اس قسم کے الفاظ بھی لکھ دیتے ہیں۔ الفِتنةُ الكُفر، الفتنة: الضَّلالُ والإثم (لسان العرب، جلد 13، صفحات 319-318)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader