دین
Urdu book, p. 278
By Maulana Wahiduddin Khan
جنگ کی ، وہ صریح احادیث کے مطابق یہی تھا کہ ان لوگوں سے کلمہ توحید کے اقرار تک جنگ کی جائے۔ چنانچہ مفسرین بعض شاذ رایوں کو چھوڑ کر تقریباً سب کے سب اس آیت کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ اس میں ایمان لانے تک جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، نہ کہ عام معنوں میں فتنه و فساد سے روکنے کا۔ ان کے نزدیک یہاں فتنہ سے مراد شرک ہے ، اور انتہاء کا مطلب ہے شرک سے باز آجانا۔ یعنی اس حکم کا مطلب یہ ہے کہ ان سے جنگ کر کے یا تو انھیں قتل کر دو ، یا انھیں مجبور کرو کہ وہ شرک چھوڑ کر اسلام قبول کریں۔ ابن عباس، ابوالعالیہ، مجاہد، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، ضحاک، ربیع مقاتل بن حیان، سدی، زید بن اسلم، سب سے متفقہ طور پر یہی منقول ہے (تفسیر ابن کثیر ، جلد 1 ، صفحہ 227)۔ موخر الذکر نے: وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ کی تشریح لَا يَكُونُ مَعَ دِينِكُمْ كُفْرُ کے فقرے سے کی ہے۔ اس قول کو نقل کر کے علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں : وَيَشْهَدُ لَهُ مَا ثَبَتَ فِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ: ”أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا : لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، فَإِذَا قَالُوهَا، عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ( تفسیر ابن کثیر ، جلد 2 ، صفحہ 309)۔ یعنی ، اس قول کی تصدیق صحیحین کی ان روایتوں سے ہوتی ہے جن میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ اپنی زبان سے لا الہ الا اللہ کہہ دیں۔ جب وہ اس کلمہ کا اقرار کر لیں تو وہ اپنے جان اور مال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے۔ الا یہ کہ کوئی اور حق ان پر آتا ہو اور ان کے بعد ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ اسی طرح علامہ آلوسی بغدادی لکھتے ہیں : والمراد من الفِتْنَةِ الشِّرْكُ على ما هو المأثورُ عن قتادةَ والسُّدِّيِّ وغيرِهما، ويُؤَيِّدُهُ أَنَّ مُشْرِكي العربِ ليس في حَقِّهم إلا الإسلامُ أو السَّيْفُ، لقولِهِ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader