Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 279

By Maulana Wahiduddin Khan

سبحانہ: تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ [الفتح: 16]“ (تفسیر روح المعانی، جلد 1، صفحہ 472)۔ یعنی، اس آیت میں فتنہ سے مراد شرک ہے جیسا کہ قتادہ، سدی اور دوسرے لوگوں سے مروی ہے۔ اور اس رائے کی تائید اس واقعہ سے ہورہی ہے کہ عرب کے مشرکوں کے لیے اسلام ہے یا تلوار، اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں جیسا کہ قرآن میں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ (48:16) اسی بنا پر تقریباً تمام مفسرین نے ان آیات کا مطلب یہ لیا ہے کہ اس میں ایک ایسے ”قتال“ کا حکم دیا گیا ہے جو اس وقت تک جاری رہے گا، جب تک کفار و مشرکین اپنا مذہب تبدیل کر کے اسلام قبول نہ کر لیں۔ میں صرف دو حوالے نقل کرتا ہوں: يَقُولُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ صلى الله عليه وسلم: {قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ يَنْتَهُوا} أَيْ: عَمَّا هُمْ فِيهِ مِنَ الْكُفْرِ وَالْمُشَاقَّةِ وَالْعِنَادِ وَيَدْخُلُوا فِي الإِسْلَامِ وَالطَّاعَةِ وَالإِنَابَةِ، يُغْفَرْ لَهُمْ مَا قَدْ سَلَفَ، أَيْ: مِنْ كُفْرِهِمْ، وَذُنُوبِهِمْ وَخَطَايَاهُمْ (تفسیر ابن کثیر، جلد 4، صفحہ 54)۔ یعنی، اللہ تعالیٰ یہاں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرما رہا ہے کہ کافروں سے کہہ دو کہ اگر تم کفر اور اسلام دشمنی سے باز آؤ اور اسلام کو قبول کر لو اور توبہ و اطاعت کا طریقہ اختیار کرو، تو تمہارے زمانۂ کفر کے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے۔ ”وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ} إِلَى أَنْ لَا يُوجَدَ فِيهِمْ شِرْكٌ قَطُّ، {وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ} وَيِضْمَحَلَّ عَنْهُمْ كُلُّ دِينٍ بَاطِلٍ وَيَبْقَى فِيهِمْ دِينُ الْإِسْلَامِ، {فَإِنِ انْتَهَوْا} عن الْكُفْرِ وَأَسْلَمُوا، {فَإِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ بَصِيرٌ} يُثِيبُهُمْ عَلَى إِسْلَامِهِمْ، {وَإِنْ تَوَلَّوْا} أَعْرَضُوا عن الإيمانِ وَلَمْ يَنتَهُوا، {فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَوْلَاكُمْ} نَاصِرُكُمْ وَمُعِينُكُمْ .“ (تفسیر مدارک التنز یل جلد 1، صفحہ 645)۔ یعنی، مطلب یہ ہے کہ ان سے اس وقت تک جنگ کرو جب تک ان کے اندر سے شرک کا بالکل خاتمہ نہ ہو جائے، ان کے تمام باطل ادیان مٹ جائیں اور ان میں صرف ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page