Urdu book · تعبیر کی غلطی

دوسرا مرحلہ

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

جب کہ اس کے لیے آپ کے پاس دوسری کوئی دلیل موجود ہو، اگر ایسا نہ ہو تو آخر کس بنیاد پر آپ اس کو صحیح سمجھتے رہیں گے۔ مگر انہوں نے کوئی دلیل نہیں دی ، صرف مزید غور و فکر کا وعدہ کیا ، انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح آپ نے تمام باتوں کا تجزیہ کیا ہے اس طرح غور کر کے تو ہم لوگ تحریک میں آئے نہیں ، بس ایک اسلامی جذبہ تھا، مولانا مودودی نے کچھ ابھارنے والی باتیں کہیں جن سے اس جذبے کو تحریک ہوئی اور ہم لوگ اس میں شریک ہو گئے ۔ 12۔ ایک بزرگ نے کہا کہ جہاں تک سابقہ فکر پر تنقید اور آیتوں کی تشریح کا تعلق ہے ، آپ کی باتیں دل کو لگتی ہیں، آپ جو مطلوب اصلی بتاتے ہیں ، وہ بھی صحیح معلوم ہوتا ہے، خواہ عملاً ہم اسے حاصل نہ کر سکے ہوں، مگر پوری مثبت شکل پر جب غور کرتے ہیں تو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ انقلاب اور اصلاح عالم کی بات اس میں کہیں مدھم نہ پڑ جائے، انہوں نے کہا کہ جماعت کے علما کو تیار ہو کر اس کا مکمل جواب دینا چاہیے ۔ مگر یہی بزرگ جنہوں نے ایک صحبت میں یہ باتیں کہی تھیں اور جو مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن کی حیثیت سے شوریٰ کے اس فیصلے میں شریک تھے کہ جماعت کے ایک عالم کو چار مہینے کا وقت دے کر متعین کیا جائے کہ وہ اس تحریر کا مفصل جواب تیار کرے۔ وہی بزرگ اس وقت بدل گئے جب اس کے متعلق انھوں نے مولانا مودودی کا خط دیکھا۔ جون 1962 کی 26 تاریخ تھی اور عصر بعد کا وقت ، مسجد میں میں نے مولانا مودودی کا خط (مورخہ 15 جون 62ء) پڑھنے کے لیے دیا، اس کو دیکھنے کے بعد انہوں نے جو جواب دیا وہ یہ تھا "مولانا مودودی نے بالکل صحیح لکھا ہے، ساری باتیں پہلے لکھی جا چکی ہیں۔ اب مزید جواب دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔" یہ جواب سن کر میں کانپ اٹھا، میں نے سوچا کہ جب تقلید اور شخصیت پرستی کا یہ حال ہے تو کوئی بات سمجھ میں آئے تو کس طرح آئے۔ 13۔ ایک صاحب جو جماعت اسلامی کے ایک شعبہ کے ذمہ دار اعلی اور مرکزی مجلس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page