Urdu book · تعبیر کی غلطی

دین

Urdu book, p. 280

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کا دین باقی رہ جائے، پھر جب وہ کفر چھوڑ دیں اور اسلام قبول کر لیں تو اللہ تعالیٰ ان کے قبولِ اسلام کا انھیں اجر دے گا۔ اور اگر وہ ایمان نہ لائیں اور کفر کو نہ چھوڑیں تو اللہ تعالیٰ تمہارا مددگار ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس آیت میں جس قتال کا حکم دیا گیا ہے وہ ایک مخصوص قتال ہے، جس کا تعلق آخری رسول سے ہے۔ یہ آیت کے الفاظ میں ”کافرین“ کے اوپر ”سنت الاولین“ کا اجراء ہے۔ یہاں کافرین سے مراد آخری رسول کے وہ مخاطبین ہیں جو اتمامِ حجت کی حد تک آخری رسول کی دعوت جان لینے کے باوجود بدستور کافر بنے ہوئے تھے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں خدا کی سنت جو قرآن میں بیان ہوئی ہے، وہ یہ ہے کہ ان کو آفاتِ ارضی و سماوی کے ذریعہ ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ آخری رسول کے مخاطبین کے سلسلے میں یہ سزا مخصوص اسباب کی بنا پر، اس شکل میں نازل ہوئی کہ اہل ایمان کو یہ ”اذن“ دے دیا گیا کہ ان سے جنگ کر کے انھیں ختم کر دو۔ قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ (9:14)۔ اس سے پہلے عرب ہی کی ایک قوم (ثمود) کی تاریخ قرآن میں اس طرح بیان ہوئی ہے کہ ان کے نبی نے جب ان پر اتمامِ حجت کر دیا اور اس کے باوجود وہ ایمان نہ لائے تو بالآخر انھیں نوٹس دے دیا گیا ۔ تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ (11:65)۔ یہ تین دن گزرتے ہی ایک صاعقۂ عظیم نے انھیں آلیا اور وہ اس طرح فنا کر دیے گئے گویا کبھی تھے ہی نہیں۔ ٹھیک اسی طرح آخری نبی نے جب اپنی قوم پر حجت تمام کر دی تو اس کے بعد اعلان کر دیا گیا ۔ ”چار مہینے اور زمین پر چل پھر لو، ”چار مہینے گزرنے کے بعد اہل ایمان کو حکم دے دیا گیا کہ انھیں جہاں پاؤ قتل کرو۔ ان کے لیے اسلام ہے یا موت تیسری کوئی راہ نہیں۔ (التوبہ، 5-9:1) اب اگر اس آیت کو اس ”قتال“ سے متعلق مانیں جو ہجرت کے بعد رسول اور آپ کے مخاطبین اولین (بنی اسماعیل) کے درمیان خدا کے براہِ راست حکم سے شروع ہوا تھا، تو ہم نہایت آسانی کے ساتھ اس کو سمجھ سکتے ہیں۔ کیوں کہ ان لوگوں کے بارے میں، مخصوص اسباب کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page