تعبیر کی غلطی
Urdu book, p. 281
By Maulana Wahiduddin Khan
بناپر، رسول کو یہی حکم ملا تھا کہ ان سے اسلام کے سوا اور کچھ قبول نہ کیا جائے۔ لیکن اگر اس کو نظریاتی حیثیت دے کر اس سے مسلمانوں کا عمومی مشن اخذ کیا جائے تو اس آیت کے مطابق، اس مشن کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم لڑ لڑ کر لوگوں کو مسلمان بنائیں۔ حالانکہ یہ معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو اس قسم کا اختیار نہیں دیا ہے۔ ایک شبه بنی اسماعیل کے سلسلے میں یہ جو رویہ اختیار کیا گیا کہ تبلیغ کا کام مکمل طور پر کر لینے کے بعد نبی نے ان سے براءت کی اور بالآخر یہ اعلان کر دیا گیا کہ ان میں سے جو ایمان نہیں لائے گا وہ قتل کر دیا جائے گا، اس کو غیر مسلم مورخین عام طور پر اسلام کی جبری تبلیغ قرار دیتے ہیں۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1958ء) میں ان آیات کا حوالہ دیتے ہوئے جہاد (Jihad) کے عنوان کے تحت جو الفاظ درج ہیں، ان کا ترجمہ یہ ہے: ”یہ ایک مذہبی فریضہ ہے جو قرآن میں (216-2:217، 8:39-42، 9:29) محمد کے پیروؤں پر عائد کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں سے جنگ کی جائے جو اسلام کے اصولوں (Doctrines) کو قبول نہیں کرتے۔“ اس قسم کے خیالات عرصہ سے اسلام کے خلاف ظاہر کیے جاتے رہے ہیں۔ خاص طور پر عیسائی علما نے اس کو بہت نمایاں کر کے پیش کیا ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ آخری رسول نے اہل مکہ کے ساتھ جو لڑائیاں کیں اور اس کے بارے میں جو اعلان فرمایا، اس کا مطالعہ یہ لوگ زیر بحث تعبیر کے حاملین کی طرح، اشاعتِ اسلام کے عنوان کے تحت کرتے ہیں، جب کہ در حقیقت یہ اشاعتِ اسلام کی جدوجہد نہیں بلکہ منکرینِ رسالت کے اوپر اس خدائی فیصلے کا ظہور تھا جسے کو قرآن میں ”أَمْرُ اللهِ، حُكْمُ اللهِ، وَعْدُ اللهِ“ وغیرہ الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اور جو ”احقاق حق“ اور ”ابطال باطل“ کے لیے ہوتا ہے یہ اپنی اصل نوعیت کے اعتبار سے، اسلام کے اصولوں کو منوانے کی کوشش نہیں تھی، بلکہ حقیقتاً اسلام کے اصولوں کو نہ ماننے کی سزا تھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader