Urdu book · تعبیر کی غلطی

ایک شبہ

Urdu book, p. 282

By Maulana Wahiduddin Khan

جو زمین و آسمان کے مالک کی طرف سے ایک مخصوص شکل میں ان کے اوپر نافذ کی گئی تھی۔ یہ سزا ہر اس انسان کو لازماً ملنے والی ہے جو خدا کی ہدایت کو ماننے سے انکار کر دے۔ فرق صرف یہ ہے کہ عام انسانوں کو قیامت میں ملے گی اور رسول کے براہِ راست مخاطبین کو دنیا میں بھی ملتی ہے اور آخرت میں بھی: وَلَنُذِيقَنَّهُم مِنَ العَذَابِ الأَدْنَى دُونَ العَذَابِ الأَكْبَرِ لَعَلَّهُم يَرْجِعُونَ (32:21)۔ یہ صحیح ہے کہ اس فیصلے الٰہی کے نفاذ سے، منجملہ اور فائدوں کے، اسلام کو تبلیغی اور توسیعی فائدے بھی حاصل ہوئے۔ مگر یہ اس کے دیگر نتائج تھے۔ جس طرح ہر واقعہ کے بہت سے دیگر نتائج و اثرات ہوتے ہیں۔ جہاں تک حکم کی اصولی نوعیت کا تعلق ہے، وہ وہی تھی جو اوپر مذکور ہوئی۔ نوعیت کا یہ پہلو سامنے نہ رکھا جائے تو اس کے بارے میں شدید غلط فہمی پیدا ہو جانا یقینی ہے۔ كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ (3:110)۔ یعنی، تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے۔ تم معروف کا حکم دیتے ہو اور منکر سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ اس آیت میں دو الفاظ غور طلب ہیں۔ (1) امر ونہی اور (2) معروف و منکر۔ معروف کے معنی ہیں پسندیدہ اور منکر، ناپسندیدہ۔ اصطلاح شرع میں یہ الفاظ نظریہ و عمل سے متعلق ان تمام چیزوں کے بارے میں بولے جاتے ہیں جن کا شریعت نے مطلوب یا نامطلوب ہونے کی حیثیت سے ذکر کیا ہے، معروف سے مراد شریعت کی تمام مطلوب چیزیں ہیں اور منکر سے مراد اس کی تمام نامطلوب چیزیں۔ خواہ ان کا تعلق عقیدے سے ہو یا عبادت سے یا عمل سے۔ گویا یہ الفاظ پوری شریعت کے قائم مقام ہیں۔ ”المَعْرُوفِ هُوَ اسْمٌ جَامِعٌ لِكُلِّ مَا عُرِفَ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ وَالتَّقَرُّبِ إِلَيْهِ وَالْإِحْسَانِ إِلَى النَّاسِ“ (لسان العرب، جلد 9، صفحہ 240)۔ ”الْمُنْكَرُ ضِدَّ الْمَعْرُوفِ۔ وَكُلُّ مَا قَبَّحَهُ الشَّرْعُ وَحَرَّمَهُ وَكَرِهَهُ فَهُوَ مُنْكَرٌ“ (النهاية لابن الاثير، جلد 5، صفحہ 115)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page