ایک شبہ
Urdu book, p. 284
By Maulana Wahiduddin Khan
شخص کسی منکر کو دیکھے تو چاہیے کہ اسے طاقت سے بدل دے۔ اگر ایسا نہ کر سکے تو زبان سے اسے برا کہے، اور ایسا بھی نہ کر سکے تو دل سے اس کو برا سمجھے۔ اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ اس حدیث کے مطابق ، اس حکم کے سلسلے میں اولین مطلوب یہ ہے کہ ”منکر “ کو طاقت کے ذریعہ بدل دیا جائے الا یہ کہ اس کی استطاعت نہ ہو۔ معلوم ہوا کہ اس آیت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ شریعت کے تمام تقاضے ، خواہ وہ عقائد سے متعلق ہوں یا عبادات سے ، اخلاق و معاملات سے متعلق ہوں یا اور کسی چیز سے ، بہ شرط استطاعت ان سب کو باجبر عائد کیا جائے اور اس کے خلاف نظریہ و عمل سے بہ زور باز رکھا جائے۔ یہ تشریح صاف ظاہر کر رہی ہے کہ ایسی کسی آیت کو تحریک اسلامی کے مکمل نصب العین کی تعبیر کے لیے اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ کیوں کہ اسلامی تحریک ، عام دنیوی تحریکوں کی مانند نہیں ہے۔ جن کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ عوام الناس کو مقہور و مغلوب کر کے ان کے اوپر ایک خاص قانون کی حکومت قائم کر دیں۔ بلکہ اسلامی تحریک لوگوں کے اندر یہ احساس بیدار کرنے کی تحریک ہے کہ وہ خدا کو پہچانیں اور آنے والے دن سے ڈر کر اس کی تیاری کی فکر کریں۔ یہی اسلامی تحریک کا اولین مطلوب ہے۔ اس کے بعد ثانوی درجہ میں جو چیز مطلوب ہے ، وہ یہ ہے کہ اگر لوگ اپنے آپ کو بدلنے پر راضی نہ ہوں تو بشرط حالات انھیں بدلنے پر مجبور کیا جائے تاکہ دنیا کا نظام ابتر نہ ہونے پائے۔ اسی طرح اس آیت میں جن چیزوں کے امر و نہی کا حکم دیا گیا ہے ، ان میں عقائد و عبادات تک شامل ہیں۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان الفاظ کو اہل ایمان کے عمومی مشن کا ترجمان نہیں قرار دیا جا سکتا۔ کیوں کہ اس تشریح کے مطابق اس حکم کا کلی انطباق صرف مسلمانوں پر ہو سکتا ہے۔ غیر مسلموں پر اس کا صرف جزئی انطباق ہوگا ۔ جب کہ زیر بحث تعبیر اس آیت کو اس عام نصب العین کے ماخذ کی حیثیت سے پیش کرتی ہے جو داعیان اسلام کو مسلمانوں اور غیر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader