ایک شبہ
Urdu book, p. 285
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلمانوں کے اوپر مشترکہ طور پر انجام دینا ہے۔ جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو اسلام قبول کر چکے ہیں، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا مطالبہ ہے کہ استطاعت کے بقدر ان سے اسلامی تقاضوں کی لازماً پیروی کرائی جائے۔ اور کسی بھی معاملہ میں انحراف کو برداشت نہ کیا جائے۔ حتیٰ کہ اگر وہ انحراف پر اصرار کریں تو اُن سے ’’قتال‘‘ بھی کیا جاسکتا ہے (مجموعہ فتاویٰ ابن تیمیہ، جلد 4، صفحہ 281) امام غزالی لکھتے ہیں: ”قال تعالیٰ: وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا“ الآیة، والإصلاح نَهْيٌ عن البَغْيِ وإعادةٌ إلی الطَّاعَةِ، فإن لم يَفْعَلوا فَقَدْ أَمَرَ الله تعالى بقتاله فقال: ”فقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفْيِءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ“، وذلِكَ هو النَّهْي عن المُنْکَرِ “ (إحياء علوم الدين، جلد 2، صفحہ 307)۔ مسلمانوں کے سلسلے میں جبری تعمیل کے اس اصول کا تعلق کسی خاص معاملے سے نہیں ہے بلکہ ساری شریعت اس حکم میں داخل ہے مثلاً دس سال کا مسلمان بچہ اگر نماز نہ پڑھے تو اس کے بارے میں حکم ہے کہ اس کو مار کر نماز پڑھاؤ۔ ظاہر ہے کہ مار کے خوف سے جو نماز پڑھی جائے وہ حقیقتاً نماز نہیں ہوگی۔ یہ حکم صرف اس لیے دیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے دائرے میں کھلم کھلا دین سے انحراف کی فضا پیدا نہ ہو سکے۔ یہ معاشرتی سطح پر اسلامی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کی ایک کوشش ہے۔ مسلم خاندان کی حد تک یہ بات بالکل صحیح ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص غیر مسلمین کے بچوں کو مار مار کر نماز پڑھانا شروع کر دے تو ایک صحیح بات اپنے غلط انطباق کی وجہ سے بے معنی ہو جائے گی۔ اب اگر حکم کو عمومی پیمانے پر پورے مفہوم کے ساتھ منطبق کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مسلمانوں کی طرح غیر مسلمین کو بھی (بہ شرط استطاعت) سیاست سے لے کر عقائد و عبادات تک تمام اسلامی تقاضوں کا حکماً پابند کیا جائے اور کسی ”تفریق و تقسیم کے بغیر“ ہر ہر معاملہ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader