Urdu book · تعبیر کی غلطی

ایک شبہ

Urdu book, p. 286

By Maulana Wahiduddin Khan

خلاف اسلام باتوں سے انھیں بالجبہ روکا جائے۔ دوسرے لفظوں میں ان کا مذہب تبدیل کرا کے انھیں پورے معنوں میں مسلمان بنا لیا جائے اور ان پر ریاست کے وہی حقوق قائم ہوں جو مسلمانوں کے اوپر اسلامی ریاست کو دیے گئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بات صحیح نہیں۔ کیوں کہ غیرمسلموں کے سلسلے میں، بعض منفرد رایوں کو چھوڑ کر، یہ بات متفق علیہ ہے کہ ان کو حکماً عقائد اسلامی اور عبادات الہیٰ کا پابند نہیں کیا جاسکتا۔ عقائد و عبادات ہمارے لیے دعوت کا موضوع تو بن سکتے ہیں مگر وہ ہمارے لیے امر و نہی کا موضوع نہیں بن سکتے۔ یعنی ہم کو یہ تو کرنا ہے کہ غیرمسلموں کے سامنے توحید پیش کریں اور عبادت اور پرستش کے اسلامی طریقوں کو اختیار کرنے کی رغبت دلائیں۔ مگر توحید کا حکم دینا اور شرک سے روکنا یا اسلامی عبادات کو حکماً ان پر عائد کرنا اور پرستش کے غیر اسلامی طریقوں کو زبردستی چھڑانا، ہمارے حدود و اختیار سے باہر ہے۔ یہ ”اِکْرَاہ فی الدّیْنِ“ ہے جس کو شریعت میں صریح طور پر خارج از بحث قرار دیا گیا ہے۔ اس معاملے میں ہمارے اور غیر مسلمین کے درمیان آمر اور مامور کا رشتہ نہیں بلکہ داعی اور مدعو کا رشتہ ہے۔ اہل ایمان مخصوص حالات میں، غیر مسلم پر بھی ”امر و نہی کا فعل انجام دے سکتے ہیں۔ مگر غیر مسلموں پر امر و نہی کا دائرہ محدود ہے۔ اس لیے یہ الفاظ اس پورے کام کا عنوان نہیں بن سکتے جو غیر مسلموں کے اوپر ہمیں کرنا ہے۔ غیر مسلموں کے سلسلے میں اولین مطلوب یہ ہے کہ ان کو کفر و شرک سے نکال کر اسلام کی طرف لایا جائے تا کہ وہ جہنم کے خطرے سے بچ سکیں۔ اور جنت کے مستحق ہوں۔ اس کام کا ذریعہ دعوت و تبلیغ اور نصیحت و تذکیر ہے۔ اب اگر یہ کوشش کار گر نہ ہو اور وہ خدا پرستی کی راہ پر آنے کے لیے آمادہ نہ ہوں تو ثانوی درجہ میں جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ اسلامی حکومت اپنے ماتحت غیر مسلموں کو اس حد تک قوانین شریعت پر مجبور کرے جس حد تک اجتماعی عدل قائم کرنے اور معاشرہ کو فساد سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ اسلام کے امراء کے لیے غیر مسلمین سے تعرض کرنے کی متعدد صورتیں ہیں۔ ایک اسلامی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page