ایک شبہ
Urdu book, p. 287
By Maulana Wahiduddin Khan
معاشرہ میں امر بالمعروف کا شعبہ مسلمانوں کو مفسدات دین سے بچانے کے لیے سرگرم ہو، اور اس دوران میں اسے اطلاع ملے کہ کچھ غیر مسلموں نے مسلمانوں کی بستی میں ایک ایسے غلط کام کا آغاز کیا ہے، جو دوسروں تک متعدی ہو سکتا ہے۔ تو خود مسلمانوں کو اس منکر میں پڑنے سے بچانے کے پہلو سے ضروری ہوگا کہ اس فتہ کو ان کے درمیان سے ختم کر دیا جائے۔ (ابن تیمیہ نے اپنی کتاب الحسبہ فی الاسلام میں اس کی کچھ مثالیں دی ہیں) اسی طرح شریعت کے ممنوعات و منکرات میں سے کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کی غیر مسلموں پر صرف تبلیغ کی جائے گی ۔ مثلاً کافرانہ اور مشرکانہ عقائد۔ مگر اسی کے ساتھ اس فہرست کی کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جن کے معاملے میں (بشرط استطاعت) مسلمانوں کو یہ حق ہے کہ وہ غیر مسلموں کو جبراً اُن سے روک دیں۔ مثلاً رشوت اور قتل وغیرہ۔ گویا ”امرونہی“ (اپنے انتہائی معنوں میں) غیر مسلموں پر کیے جانے والے کام کی صرف جزئی ترجمانی کرتا ہے۔ یہ ایک استثنائی صورت ہے، نہ کہ کلی صورت۔ اب اگر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے الفاظ کو اس پورے کام کا عنوان قرار دیا جائے جو غیر مسلموں کے اوپر ہمیں کرنا ہے تو یا تو عقائد و عبادات کو زبردستی ان پر مسلط کرنا لازم آتا ہے ۔ یا اگر واقعی اس کو حد کے اندر محدود رکھا جائے تو ان الفاظ کو غیر مسلموں کے اوپر کیے جانے والے کام کا کلی ترجمان قرار دینے کی صورت میں غیر مسلم ہمارے لیے صرف سماجی اور معاشرتی اہمیت رکھنے والے قوانین کا موضوع بنتے ہیں۔ اور شریعت کا وہ اہم ترین حصہ اس سے خارج ہو جاتا ہے جو عقائد و عبادات سے تعلق رکھتا ہے۔ کیوں کہ ان معاملات میں ہم حکم کرنے اور روک دینے کا طریقہ اختیار نہیں کر سکتے، بلکہ صرف تبلیغ اور نصیحت کر سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر اس استدلال کو مان لیا جائے تو اسلامی تحریک اور اسلامی فوج میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ بے شک اسلامی فوج بھی اسلامی زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ مگر اسلامی تحریک اس سے وسیع تر چیز ہے اور وسیع تر تصور کے تحت ہی اسے سمجھا جا سکتا ہے۔ معلوم ہوا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے الفاظ أصلاً تبلیغ و دعوت کے کام کے ترجمان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader