ایک شبہ
Urdu book, p. 288
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں ہیں، جو اولین مطلوب کی حیثیت سے ہمیں دوسروں کے اوپر کرنا ہے۔ بلکہ حدیث کے الفاظ میں یہ ’’تغیر‘‘ کے فریضہ کو بتاتے ہیں، جو خود سے قبول نہ کرنے کی صورت میں بقدر وسع انجام دیا جاتا ہے۔ پھر اس آیت میں چوں کہ عقیدے اور عمل سے متعلق تمام منفی اور مثبت تقاضوں کے بارے میں ’’تغیر‘‘ کا حکم ہے۔ اس لیے اس کا کلی انطباق صرف مسلمانوں کے اوپر ہو سکتا ہے۔ کیوں کہ انھیں کے بارے میں ہمیں یہ حق ہے کہ بشرط استطاعت شریعت کے ہر تقاضے کو بزور ان کے اندر پیدا کرنے کی کوشش کریں، خواہ وہ عقیدے اور عبادت سے متعلق ہو یا اخلاق اور معاملات سے۔ اس کے برعکس، غیر مسلموں پر دین کے بہت بڑے حصے کی صرف تبلیغ و تلقین کرنی ہے اور یہ کوشش کرنی ہے کہ وہ خود ان کے اندر پیدا ہو جائے اور اپنے آپ وہ اس کو اختیار کر لیں۔ شریعت کا صرف ایک محدود اور نسبتاً ثانوی درجہ کی اہمیت رکھنے والا حصہ ہے، جس کے سلسلے میں، بشرط استطاعت، ہم ان کے اوپر تغیر بالید کا طریقہ اختیار کر سکتے ہیں۔ علامہ رشید رضا کی تشریح کے مطابق، داعیان حق کا اصل اور اولین کام لوگوں کو حق کی طرف بلانا اور ان کے اندر ایمان و اسلام کی روشنی پیدا کرنا ہے۔ ’’امرو نہی‘‘ (حکماً پابند کرنا اور حکماً روکنا) اس کے بعد کی چیز ہے، جو دو پہلوؤں سے اسلام کے اندر شامل ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ مخاطبین جب دعوت حق کو قبول کر لیں تو ان کی زندگیوں کو اسلام کی راہ پر لانے، اور انھیں تمام شرعی ذمے داریوں کا حامل بنانے کے لیے ان کے اوپر نگرانی اور احتساب کا ایک مسلسل عمل جاری کیا جائے ۔ اور دوسرے اس لحاظ سے کہ اہل ایمان کا جو گروہ ہے، وہ اپنے آپ کو منظم، باعمل اور با مقصد بنائے رکھنے کے لیے اپنے درمیان اس قسم کا نظام قائم کرے تا کہ وہ بگاڑ سے بچے رہے اور خدا کی نصرت اس کا ساتھ نہ چھوڑے (تفسیر المنار، جلد 4، صفحہ 28-27)۔ حقیقت یہ ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے الفاظ اہل اسلام کے مشن کی علی الاطلاق تعبیر کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں نبوت کے مشن کی تعبیر کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader