ایک شبہ
Urdu book, p. 289
By Maulana Wahiduddin Khan
لیے یہ الفاظ اختیار نہیں کیے گئے ہیں۔ امت مسلمہ کو دنیا میں جو فریضہ سونپا گیا ہے وہ وہی ہے جس کے لیے پہلے انبیاء بھیجے جاتے تھے۔ یہ امت گویا نبیوں کی قائم مقام ہے۔ مگر جب ہم کتاب الہی کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو سارے قرآن میں کہیں بھی انبیاء کے عمومی مشن کی حیثیت سے پیش نہیں کیا گیا ہے۔ درجوں آیتیں ہیں جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ انبیاء ورسل کی بعثت کا مقصد کیا تھا۔ مگر کہیں بھی یہ الفاظ نہیں ہیں کہ— ”ہم نے رسول اس لیے بھیجے تا کہ وہ دنیا والوں پر معروف کا امر اور منکر کی نہی کریں“۔ اب یہ واقعہ کہ قرآن میں انبیاء کے عمومی کام کی تعبیر کے لیے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے الفاظ استعمال نہیں ہوئے ہیں، یہ بذات خود اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ ان الفاظ کو علی الاطلاق اس پورے نصب العین کو سمجھنے کا ماخذ نہیں بنایا جا سکتا، جو پیغمبر کی نیابت میں ہمیں اہل دنیا کے اوپر کرنا ہے۔ 5۔ پانچویں آیت، جس سے اس سلسلے میں استدلال کیا جاتا ہے، حسب ذیل ہے: هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (9:33)۔ یعنی، وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجتا تا کہ اس کو تمام دینوں پر غالب کر دے خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ زیر بحث تشریح کے مطابق اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ ”اللہ نے اپنے رسول کو صحیح اور برحق نظامِ زندگی یعنی اسلام کے ساتھ بھیجا ہے، اور اس کے مشن کی غایت یہ ہے کہ اس نظام کو تمام دوسرے نظاموں پر غالب کر کے رہے۔“ (قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں) اب چوں کہ امت مسلمہ کو ختم رسالت کے بعد وہی کام انجام دینا ہے جس کے لیے خدا کا رسول بھیجا گیا تھا، اس لیے اس آیت کے مطابق رسول کی تبعیت میں مسلمانوں کا نصب العین یہ قرار پاتا ہے کہ وہ اسلامی نظام کو تمام دوسرے نظاموں پر غالب کریں اور زندگی کے تمام شعبوں میں اسلام کی حکمرانی قائم کر دیں۔ رسالہ زندگی ماہ محرم 1382 ہجری میں ”اشارات“ کے عنوان کے تحت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader