دوسرا مرحلہ
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
شوریٰ کے رکن ہیں، انہوں نے کہا: ”ایسپرٹ سے اتفاق Tone سے اختلاف۔“ ان سے ایک گھنٹہ تک گفتگو ہوتی رہی مگر ان کا اتفاق یا اختلاف کچھ میری سمجھ میں نہیں آیا، وہ تسلیم کرتے ہیں کہ میری تعبیر اور مولانا مودودی کی تعبیر میں فرق ہے، مگر دونوں کو صحیح بھی کہتے ہیں۔ اس کے چھ مہینے کے بعد جب اس کے متعلق دوبارہ ان سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے کہا ”ابوالکلام صاحب، مودودی صاحب اور آپ تینوں ایک مشترک غلطی میں مبتلا ہیں۔ وہ یہ کہ کچھ وقتی خرابیوں کا احساس کر کے انھیں دور کرنے کی کوشش کی، مگر اصلاح حال کی کوشش غیر شعوری طور پر تعبیر دین کی کوشش بن گئی۔ جو چیز صرف عملی اصلاح سے متعلق تھی اس کو نظریاتی تشریح کی حیثیت دے دی گئی، نتیجہ یہ ہوا کہ افراط و تفریط پیدا ہوگئی، توازن باقی نہ رہا۔“ 14۔ ایک بزرگ نے فرمایا کہ ”نتائج“ والے باب سے مجھے بالکل اتفاق ہے۔ مگر اس کی جو نظریاتی توجیہ کی گئی ہے اس میں عدم توازن نظر آتا ہے۔ میں نے کہا ”آپ کچھ مثالوں سے اس عدم توازن کو واضح کیجیے۔“ مگر وہ کوئی مثال نہ دے سکے۔ انہوں نے کہا ”یہ تحریر ایسی نہیں جس کو ہنس کر کے ٹال دیا جائے، اس کو بار بار بہت غور سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ پھر اس پر باقاعدہ تبصرہ کیا جاسکتا ہے۔“ انہوں نے کہا کہ اس کو پڑھ کر مجھ پر اتنا اثر ہوا کہ ذہن برابر اس کے متعلق سوچ رہا ہے، رات تو مجھے دیر تک نیند نہیں آئی۔ 15۔ ایک بزرگ جو عالم دین تو نہیں ہیں مگر اپنی دیگر خصوصیات کی بنا پر جماعت میں نمایاں مقام رکھتے ہیں اور مسلسل مجلس شوریٰ کے رکن منتخب ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ”آپ کی تحریر بہت ہی زیادہ جھنجھوڑنے والی ہے، اس کے اندر بہت سی صداقتیں نظر آتی ہیں۔ مگر جہاں تک اس کے علمی اور تفسیری حصے کا تعلق ہے، اس پر میں رائے دینے کی حیثیت میں نہیں ہوں، علما ہی اس پر اظہار خیال کر سکتے ہیں۔“ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ پہلے آپ کے ذہن میں نتائج آئے اور ان کی توجیہ ڈھونڈتے ہوئے آپ ان خیالات تک پہنچے یا پہلے آیات کا وہ مفہوم سامنے آیا جو آپ نے لکھا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader