Urdu book · تعبیر کی غلطی

ایک شبہ

Urdu book, p. 290

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک پورا مضمون شائع ہوا ہے۔ فاضل مضمون نگار کوان کے کسی ’’رفیق‘‘ نے یہ بات پہنچائی تھی کہ ’’بعض لوگ‘‘ جماعتِ اسلامی کے نصب العین پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس کے مطابق دین کو قائم کر دینا ہماری ذمہ داری قرار پاتی ہے، نہ کہ اس کو قائم کرنے کی کوشش کرنا، اور اس اعتراض کی بنیاد یہ ہے کہ جماعت نے ’’اپنے دستور میں اقامت دین لکھا ہے، اقامت دین کی جدوجہد درج نہیں کیا ہے۔‘‘ اس کے جواب میں موصوف نے مختلف مثالیں دی ہیں جن سے ان کے نزدیک یہ بات ’’شفاف آئینہ کی طرح چمک اٹھتی ہے‘‘ کہ جب کسی فرد یا گروہ کو خدا کی طرف سے کوئی حکم دیا جائے تو اس سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ ’’وہ اس حکم کو وجود میں لے آئے، بلکہ صرف یہ ہوتی ہے کہ اسے وجود میں لانے کی سعی کرے۔‘‘ چند احکام کی مثالیں دے کر بڑے جوش سے لکھتے ہیں: ’’اب فرض کیجیے کہ کوئی شخص یہ اعتراض کرتا ہے کہ اللہ نے ان احکام میں انسان پر ایسی ذمہ داری ڈالی ہے جو اس کے بس میں نہیں ہے تو اس کا جواب یہی ہوگا کہ ان احکام میں ذمہ داری جو کچھ ڈالی گئی ہے وہ صرف کوشش کی ہے، نہ کہ ان چیزوں کو بالفعل عالم وجود میں لے آنے کی۔ اس جواب پر اگر معترض کہے کہ قرآن میں یہ کہاں ہے کہ ’’آگ سے بچانے کی کوشش کرو۔‘‘ ’’اصلاح کی جدوجہد کرو‘‘ اور ’’اقامت دین کے لیے سعی کرو،‘‘ تو اس کے جواب میں نرمی سے کہا جائے گا کہ آپ اعتراض کے موڑ سے ہٹ کر تنہائی میں خود اس مسئلہ پر غور کریں، اس لیے کہ اب آپ کا یہ اعتراض عقلِ عام سے بھی علیحدہ ہے اور امر و احکام کی زبان سے ناواقفیت کی بھی دلیل ہے۔‘‘ (صفحہ 7) مضمون میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ یہ ’’بعض لوگ‘‘ کون ہیں، جنہوں نے یہ بے معنی اعتراض آپ کے ’’رفیق‘‘ کے سامنے پیش کیا۔ تاہم جہاں تک میرے اس نکتہ کا معاملہ ہے، اس کا اس اعتراض سے کوئی تعلق نہیں، میرا کہنا یہ نہیں ہے کہ آپ کے نصب العین کے دستوری الفاظ کے مطابق اہل ایمان کی ذمہ داری جدوجہد کے بجائے عملاً قائم کرنے کی ہو جاتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page