ایک شبہ
Urdu book, p. 291
By Maulana Wahiduddin Khan
بلکہ میرا کہنا یہ ہے کہ اگر آیت اظہار دین کو نصب العین کا ماخذ بنایا جائے تو اس آیت کی رو سے آپ کی ذمہ داری یہ قرار پاتی ہے کہ آیت میں جس کام کا ذکر ہے، اس کو آپ عملاً وقوع میں لاکر چھوڑیں۔ کیوں کہ آیت میں محض "کوشش" کا ذکر نہیں ہے، بلکہ ایک لازمی نتیجے کا اعلان ہے: وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ (9:32)۔ دوسرے کے قائم کیے ہوئے سوال کی بنیاد پر کسی اور کے نقطہ نظر کی تردید کرنا اس اعتبار سے بہت کارگر طریقہ ہے کہ اس میں مخالف کی تردید کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ مگر یہ وہی طریقہ ہے جس کے متعلق جماعت اسلامی کو اپنے مخالف علما سے شکایت رہی ہے۔ ان حضرات نے اپنے معتقدین کے فراہم کیے ہوئے نکات کی بنیاد پر جماعت اسلامی پر تنقید کر ڈالی تھی، اس کے جواب میں جماعت کے ذمہ داروں کی طرف سے کہا گیا کہ جماعت کا نقطہ نظر اس کی اپنی کتابوں میں چھپا ہوا موجود ہے اس لیے جس کو جماعت پر تبصرہ کرنا ہو وہ جماعتی لٹریچر کو اچھی طرح پڑھ کر اس کی روشنی میں جماعت پر تبصرہ کرے۔ دوسروں کے مرتب کیے ہوئے سوالات کی بنیاد پر کوئی رائے قائم کر کے جماعت کو اپنی تنقیدوں کا نشانہ بنانا صحیح نہیں ہے۔ یہی بات میں اپنے ناقدین سے کہوں گا۔ کیوں کہ مجھے اندیشہ ہے کہ مخالفین کے اس آزمودہ نسخہ کو کچھ لوگ میرے اوپر دہرانے کی کوشش کریں گے۔ مذکورہ آیت دراصل دو آیتوں پر مشتمل ایک ٹکڑے کا حصہ ہے جو قرآن کی تین سورتوں (التوبہ، الفتح، الصف) میں آئی ہے۔ یہاں میں سورہ توبہ کا ٹکڑا نقل کرتا ہوں: يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِؤُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ - هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (9:32-33)۔ یعنی، یہ لوگ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں، مگر اللہ اس کے بغیر ماننے والا نہیں ہے کہ وہ اپنے نور کو مکمل کر دے، خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو، وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader