ایک شبہ
Urdu book, p. 292
By Maulana Wahiduddin Khan
کے ساتھ بھیجتا تا کہ اس کو تمام دینوں پر غالب کر دے، خواہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ پہلی بات یہ ہے کہ اس آیت میں ”اظہارِ دین“ (دین کو غالب کرنے) کا ذکر ہے، جو ایک ایسا عمل ہے، جو کافرین و مشرکین کی ”کراہت“ کے باوجود وقوع میں آتا ہے، جب کہ نبی کا اصل اور اولین کام تبلیغ دین ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ لوگ برضا و رغبت نبی کی بات قبول کر لیں اور اس کو بخوشی اپنی زندگی میں شامل کر لیں۔ نبی اصلاً لوگوں کو جہنم کے عذاب سے بچانے کے لیے آتا ہے جو اسی وقت ممکن ہے جب کہ لوگ اپنے ارادہ سے دین کو مان لیں، نہ کہ ان کی کراہت کے باوجود جبر ان کے اوپر دین کو غالب و مسلط کر دیا جائے ـــ ایسی حالت میں ظاہر ہے کہ اظہارِ دین (وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ) کو نبوت کے اصل اور مکمل مشن کا ترجمان نہیں قرار دیا جا سکتا۔ دوسرے ان آیات میں چند واضح قرینے ایسے موجود ہیں، جو ہم کو یہ ماننے کی طرف لے جاتے ہیں کہ یہاں جس عمل کا ذکر ہے وہ حقیقتاً کوئی انسانی مشن نہیں ہے۔ بلکہ وہ ایک الہی منصوبہ ہے، وہ اپنی اصل نوعیت کے اعتبار سے خدا کے ایک فیصلے کا اظہار ہے، نہ کہ کسی انسانی کوشش کا بیان۔ یہ صحیح ہے کہ اس عمل کو وقوع میں لانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بطور وسیلہ استعمال کیا تھا اور اس لحاظ سے آخری نبی کی غایت بعثت میں یہ چیز شامل تھی کہ آپ کے ذریعہ سے عرب میں اس واقعہ کو رونما کیا جائے گا۔ مگر اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک خدائی منصوبہ تھا، نہ کہ نبوت کی وہ عام اور مخصوص ذمہ داری، جس کا ایک پیغمبر اپنی ذاتی حیثیت میں مکلف ہوتا ہے، اور جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ: ﴿وَإِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ﴾ (5:67)۔ یعنی، اگر تو نے اس ”فعل“ کو انجام نہیں دیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم نے اپنے فریضۂ رسالت کو ادا نہیں کیا۔ 1۔ پہلا قرینہ یہ کہ یہاں جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں، ان پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک خبر ہے، نہ کہ عام معنوں میں محض ایک حکم۔ یعنی ان الفاظ میں اظہارِ دین کی صرف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader