Urdu book · تعبیر کی غلطی

ایک شبہ

Urdu book, p. 293

By Maulana Wahiduddin Khan

کوشش کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ اظہار دین کو لازماً وقوع میں آنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اسی لیے بھیجا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے اپنے دین کو تمام دوسرے ادیان پر غالب کردے۔ کفار و مشرکین اگر چہ اس واقعہ کو روکنے کے لیے اپنی ساری قوت صرف کر رہے ہیں۔ مگر مالک کائنات ایسے کسی امکان کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے جب اس کا منصوبہ عمل میں نہ آئے۔ ”وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا“ عَلیٰ اَنَّ مَاوَعْدَہٗ کَائِنٌ لَا مَحَالَۃَ۔‘‘ (تفسیر ابی السعود، جلد 8، صفحہ 114)۔ یعنی، اظہار دین کا یہ وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے کیا ہے وہ لازماً پورا ہو کر رہے گا۔ ”وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا“ عن الحسن : شَھِدَ علی نفسہ اَنَّہٗ سَیُظْھِرُ دِیْنَک (تفسیر الکشاف، جلد 4، صفحہ 346)۔ یعنی، امام حسن بصری سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی ذات کی شہادت دی ہے کہ وہ عنقریب تمہارے دین کو غالب کر دے گا۔ اس انداز بیان سے صاف ظاہر ہے کہ اس میں کسی ایسی مخلوق کے مشن کا ذکر نہیں ہے، جس کے بس میں صرف یہ ہے کہ وہ کوشش کر دے، خواہ اس کی کوششوں کا نتیجہ نکلے یا نہ نکلے۔ بلکہ اس میں ایک ایسی ہستی کے عمل کا ذکر ہے جو ”کن فیکون“ کی شان رکھتا ہے۔ یہاں دراصل اللہ تعالیٰ کے اپنے ارادے کا اعلان ہے جس کو وہ کفار و مشرکین کی ساری مخالفتوں کے باوجود لازماً پورا کرنے والا ہے۔ کلام الٰہی کا انداز یہ ہے کہ وہ فیصلہ کن انداز میں یہ امکان تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں کہ عرب میں جس واقعہ کو ظہور میں لانا طے کیا گیا ہے، وہ ظہور میں نہ آئے۔ ظاہر ہے کہ یہ خدا ہی کا فعل ہوسکتا ہے، نہ کہ کسی انسان کا۔ ارادے اور واقعہ میں اس قسم کا لزوم خدا کے لیے تو بیشک ممکن ہے، مگر انسان کے بس میں نہیں ہے کہ وہ جو کچھ چاہے اس کو حالات کے علی الرغم وقوع میں بھی ضرور لادے۔ 2۔ دوسرا قرینہ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کی ضمیر سے متعلق ہے۔ متعلقہ فقروں پر غور کرنے کے بعد یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہاں لِیُظْھِرَہٗ کا فاعل خدا ہے۔ کیوں کہ جس نوعیت کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page