ایک شبہ
Urdu book, p. 294
By Maulana Wahiduddin Khan
لازمی اظہار دین کا یہاں ذکر ہے اس کا کرنے والا خدا کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ چنانچہ مفسرین، بعض مستثنی رایوں کو چھوڑ کر، سب کے سب لِیُظْهِرَ کا فاعل خدا کو مانتے ہیں، نہ کہ رسول کو۔ ضمیر مفعول (ہ) کے بارے میں تو ضرور ان کے درمیان اختلاف ہے۔ کچھ لوگ اس کا مرجع رسول کو مانتے ہیں اور کچھ دین حق کو، مگر لِیُظْهِرَ کا فاعل سب کے نزدیک خدا ہے۔ رشید رضا اس سلسلے میں مفسرین کا نقطہ نظر بتاتے ہوئے لکھتے ہیں: وَفِي الضَّمِيرِ الْمَنْصُوبِ هُنَا قَوْلَانِ: (أَحَدُهُمَا) أَنَّهُ لِلرَّسُولِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ مَرْوِيٌّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنه وَالْمَعْنَى حِينَئِذٍ أَنَّهُ تَعَالَى يُظْهِرُ هَذَا الرَّسُولَ عَلَى كُلِّ مَا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ الْمُرْسَلُ هُوَ إِلَيْهِمْ مِنْ أُمُورِ الدِّينِ؛ عَقَائِدِهِ وَآدَابِهِ وَسِيَاسَتِهِ وَأَحْكَامِهِ ، لِأَنَّ مَا أَرْسَلَهُ بِه هُوَ الدِّينُ الْأَخِيرُ الَّذِي لَا يَحْتَاجُ الْبَشَرُ بَعْدَهُ إِلَى زِيَادَةٍ فِي الْهِدَايَةِ الدِّينِيَّةِ (تفسیر المنار، جلد 10، صفحه 339)۔ یعنی، ضمیر منصوب (ہ) کے بارے میں یہاں دو قول ہیں۔ ایک یہ کہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے۔ یہی عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے۔ ایسی صورت میں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ رسول کو ان تمام امور دین سے باخبر کر دے گا جس کی اسے رسول کی حیثیت سے ضرورت ہے۔ یعنی عقائد، آداب، سیاست، احکام۔ کیوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری دین لے کر بھیجے گئے تھے، جس کے بعد انسان کو دینی ہدایت کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ الْوَجْهُ الثَّانِي: أَنَّ الضَّمِيرَ لِدِينِ الْحَقِّ الَّذِي أُرْسِلَ بِه صلى الله عليه وسلم وَمَعْنَاهُ أَنَّهُ تَعَالَى يُعْلِي هَذَا الدِّينَ، وَيَرْفَعُ شَأْنَهُ عَلَى جَمِيعِ الْأَدْيَانِ (تفسیر المنار، جلد 10، صفحه 340)۔ یعنی، دوسرا خیال یہ ہے کہ ضمیر (ہ) دین حق کے لیے ہے جس کو لے کر آپ تشریف لائے تھے۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دین کو تمام دینوں پر سر بلند کرے گا اور اس کی عزت بڑھائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader