ایک شبہ
Urdu book, p. 295
By Maulana Wahiduddin Khan
امام رازی لکھتے ہیں: وَأَكْثَرُ الْمُفَسِّرِينَ عَلَى أَنَّ الْهَاءَ فِي قَوْلِهِ لِيُظْهِرَهُ رَاجِعَةٌ إِلَى الرَّسُولِ، وَالْأَظْهَرُ أَنَّهُ رَاجِعٌ إِلَى دِينِ الْحَقِّ أَيْ أَرْسَلَ الرَّسُولَ بِالدِّينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ أَيْ لِيُظْهِرَ الدِّينَ الْحَقَّ عَلَى الْأَدْيَانِ، وَعَلَى هَذَا فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْفَاعِلُ لِلْإِظْهَارِ هُوَ اللَّهُ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ هُوَ النَّبِيَّ أَيْ لِيُظْهِرَ النَّبِيُّ دِينَ الْحَقِ (تفسیر الرازی، جلد 8، صفحہ 882)۔ یعنی، بیشتر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ لِيُظْهِرَهُ کی ضمیر (ہ) رسول کی طرف راجع ہے۔ مگر زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ اسے دین حق کی طرف راجع مانا جائے۔ یعنی رسول کو بھیجا دین حق کے ساتھ تا کہ اس کو تمام دوسرے ادیان پر غالب کر دے۔ پس یہاں دو امکانات ہیں۔ ایک یہ کہ اظہار کا فاعل خدا ہو۔ اور دوسرے یہ کہ اس کا فاعل نبی ہو۔ یعنی۔ تا کہ نبی دین حق کو غالب کر دے۔ امام رازی نے (اسی طرح اور بعض مفسرین نے) اگر چہ اظہار کا فاعل خدا کو ماننے کے ساتھ یہ امکان بھی تسلیم کیا ہے کہ اس کا فاعل رسول بھی ہوسکتا ہے۔ مگر ان کی یہ رائے محض نحوی اعتبار سے ہے۔ ورنہ اس فقرے میں جس عمل کا ذکر ہے اس کو وہ حقیقتاً خدا ہی کا عمل مانتے ہیں، رسول صرف اس کا ایک ظاہری ذریعہ تھا، اور بس۔ چنانچہ سورہ توبہ کی تفسیر میں مندرجہ بالا آیات نقل کرنے کے بعد امام رازی لکھتے ہیں: اعْلَمْ أَنَّهُ تَعَالَى لَمَّا حَكَى عَنِ الْأَعْدَاءِ أَنَّهُمْ يُحَاوِلُونَ إِبْطَالَ أَمْرِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم وَبَيَّنَ تَعَالَى أَنَّهُ يَأْبَى ذَلِكَ الْإِبْطَالَ وَأَنَّهُ يُتِمُّ أَمْرَهُ، بَيَّنَ كَيْفِيَّةَ ذَلِكَ الْإِتْمَامِ فَقَالَ: هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ. لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ۔ (تفسیر الرازی، جلد 6، صفحہ 321)۔ یعنی، جانو کہ اوپر کی آیت (يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُا نُورَ اللهِ) میں اللہ تعالیٰ نے دشمنان حق کے بارے میں بتایا تھا کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ کو ختم کر دینے کی تدبیریں کر رہے ہیں۔ اور فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader