Urdu book · تعبیر کی غلطی

ایک شبہ

Urdu book, p. 296

By Maulana Wahiduddin Khan

ان کی کوششوں کو ہرگز پورا نہیں ہونے دے گا۔ اور وہ اس معاملہ کو مکمل کر کے رہے گا، تو اب مکمل کرنے کی صورت کو بتا دیا کہ وہ کس طرح ہوگا، فرمایا ”وہی ہے جس نے اپنا رسول ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ اس کو تمام دینوں پر غالب کر دے۔“ یعنی امام رازی کے نزدیک اوپر کی آیت میں وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ (8 : 61) یَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ (32 : 9) کے الفاظ میں جس ”ارادہ الہی“ کا ذکر تھا، دوسری آیت أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (9 : 61) میں اس کی کیفیت یا عملی صورت کو بتایا ہے۔ گویا یظهر کا ”فاعل“ رسول کو ماننے کا مطلب اصل فاعل کی کیفیت فعل کو بتانا ہے، نہ کہ خود فاعل کو متعین کرنا۔ قاضی بیضاوی نے یہی بات دوسرے انداز سے کہی ہے۔ وہ دوسرے فقرے (هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ) کو پہلے فقرے (يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُا نُورَ اللَّهِ) کے ”بیان“ کی حیثیت دیتے ہیں۔ اب چونکہ پہلے فقرے میں اللہ کا فاعل ہونا صریح طور پر مذکور ہے (وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ،“ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ“)۔ اس لیے دوسرے فقرے میں بھی قدرتی طور پر اسی کو فاعل سمجھا جائے گا۔ اس تشریح کے مطابق ، خدا کا فاعل ہونا ضمیر محذوف کا مرجع تلاش کرنے کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ وہ ایک ایسا فاعل ہے جو خود کلام میں مذکور ہے۔ بیضاوی کے الفاظ یہ ہیں : هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ} كَالْبَيَانِ لِقَوْلِهِ: {وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ}، وَلِذَلِكَ كَرَّرَ {وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ}، غَيْرَ أَنَّهُ وَضَعَ الْمُشْرِكِينَ مَوْضِعَ الْكَافِرِينَ (تفسير البيضاوی، جلد 3، صفحہ 79)۔ یعنی، آیت (هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ) اس سے پہلے کی آیت (وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ) کا گویا بیان ہے۔ اسی لیے دوبارہ فرمایا: وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ۔ اس تکرار میں صرف اتنا فرق ہے کہ پہلے فقرے میں ” کافرون“ تھا اور دوسرے میں اس کے بجائے ”مشرکون“ ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page