Urdu book · تعبیر کی غلطی

ایک شبہ

Urdu book, p. 297

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی بات آلوسی بغدادی نے ان الفاظ میں لکھی ہے: ”والجملةُ بيانٌ وتَقْرِيرٌ لِمَضْمُونِ الجُمْلَةِ السَّابِقَةِ، لأنَّ مآلَ الإتمامِ هو الإظهارُ“ (تفسیر روح المعانی، جلد 5، صفحہ 278)۔ یعنی، اور آیت (هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ الخ) اپنے سے پہلے کی آیت (يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِؤُا الخ) کا بیان اور اسی کی وضاحت ہے، کیوں کہ اظہار دین دراصل اتمام نور ہی کا آخری انجام ہے۔ 3۔ تیسری بات یہ کہ اس حکم سے مہبط وحی نے اس کا جو مطلب سمجھا اور جس کے مطابق اس پر عمل کیا، وہ بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک ایسا عمل تھا، جس کو فیصلہ الہی تو کہہ سکتے ہیں مگر اسے انسانی مشن نہیں کہا جاسکتا۔ یہ اظہار دین، جو صاحب روح المعانی کے الفاظ میں ”تَسْلِيطُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى جَمِيعِ أَهْلِ الأَدْيَانِ“ (تفسیر روح المعانی، جلد 13، صفحہ 275) کے ذریعہ حاصل کیا گیا تھا، اس سے کون سا واقعہ مراد ہے۔ اور وہ ہو گیا یا نہیں، اس سلسلے میں امام رازی نے پانچ رائےیں نقل کی ہیں۔ تیسری رائے یہ ہے: الوَجْهُ الثَّالِثُ: المُرَادُ: لِيُظْهِرَ الإِسْلَامَ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ فِي جَزِيرَةِ العَرَبِ، وَقَدْ حَصَلَ ذَلِكَ فَإِنَّهُ تَعَالَى مَا أَبْقَى فِيهَا أَحَدًا مِنَ الكُفَّارِ (تفسیر الرازی، جلد 6، صفحہ 33)۔ یعنی، اس کا مطلب ہے عرب کے تمام دینوں پر اسلام کو غالب کرنا۔ اور یہ واقعہ ہو چکا۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے عرب میں ایک بھی کافر باقی نہیں رکھا۔ یہی رائے آیت کے الفاظ سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے، کیوں کہ اس میں کافرین و مشرکین کی کراہت کے علی الرغم اظہار دین کو وقوع میں لانے کا اعلان ہے، اس لیے کسی ایسی صورت کو اس کا مصداق قرار نہیں دیا جاسکتا جو ابھی وقوع میں نہ آئی ہو۔ شوکانی لکھتے ہیں: وَقَدْ وَقَعَ ذَلِكَ وَلِلَّهِ الحَمْدُ (فتح القدیر للشوکانی، جلد 2، صفحہ 405) اس عمل کا دائرہ عرب کی سرزمین تھی، جیسا کہ بعض علما نے صراحت کی ہے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page