ایک شبہ
Urdu book, p. 298
By Maulana Wahiduddin Khan
قیل: أَرَادَ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَقَدْ فَعَلَ (تفسیر القرطبی، جلد 8، صفحہ 122) یعنی، اللہ تعالی کا یہ فیصلہ تھا کہ وہ جزیرہ عرب میں دین کو غالب کرے گا اور اس نے ایسا کر دیا۔ اظہارِ دین کا یہ عمل جزیرہ عرب سے مخصوص ہے، جو اس طرح ہو گیا کہ وہاں کوئی کافر باقی نہیں رہا۔ وَقِيلَ: مَخْصُوصٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَقَدْ حَصَلَ ذَلِكَ مَا أَبْقَى فِيهَا أَحَدًا مِنَ الْكُفَّارِ (البحر المحيط فی التفسیر، جلد 5، صفحہ 406) اظہارِ دین کا طریقہ بنی اسماعیل کے معاملہ میں یہ اختیار کیا گیا کہ نبی نے اپنے منکرین کے خلاف ایک ایسی جنگ چھیڑ دی جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ یا تو ایمان لائیں ورنہ قتل کیے جائیں گے۔ صحیح حدیث میں آیا ہے: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ ( وفي رواية النسائي : أُقَاتِلَ المشركينَ ) حَتَّى يَشْهَدُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ. فَإِذَا قَالُوهَا، عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 1399؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 21؛ سنن النسائی، حدیث نمبر 3966؛ مسند احمد، حدیث نمبر 10840 ) ۔ یعنی، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مشرکین سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ کلمہ توحید کا اقرار کریں، جب وہ اس کا اقرار کر لیں تو وہ اپنے جان و مال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے اور ان کا حساب خدا کے ذمہ ہے۔ بعض روایتوں میں اسی کے ساتھ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ (کے الفاظ بھی آئے ہیں)۔ کسی میں اس کے ساتھ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ (کا اضافہ ہے، کسی میں) وَكَفَرُوا بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ (کے الفاظ ہیں، کسی میں) وَاسْتَقْبِلُوا قِبْلَتَنَا، وَأَكْلُوا ذَبِيحَتَنَا (ہے اور کسی میں ہے ) وَيُؤْمِنُو ا بِي وَبِمَا جِئْتُ بِهِ ( شرح النووی على صحيح مسلم، جلد 14، صفحہ 84 ) ۔ اوپر میں نے جن پہلوؤں کا ذکر کیا ہے ان کو سامنے رکھ کر غور فرمائیے۔ ظاہر ہے کہ یہ نہایت عجیب بات ہوگی کہ امت مسلمہ کا نصب العین اخذ کرنے کے لیے ہم ایک ایسی آیت کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader