ایک شبہ
Urdu book, p. 299
By Maulana Wahiduddin Khan
ماخذ بنائیں، جس میں اللہ تعالی نے اپنے ایک فعل کو بیان کیا ہو۔ آخر لغت اور بیان کا وہ کون سا اصول ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک ایسا فقرہ جس میں یہ کہا گیا ہو کہ ”اللہ کا ارادہ ہے کہ وہ ایسا کرے“۔ اس کو اس معنی میں لے لیا جائے کہ ”اللہ کے بندوں کا مشن ہے کہ وہ ایسا کریں۔“ پھر اس آیت کو اگر امت مسلمہ کے نصب العین کی آیت قرار دیا جائے تو ایک طرف تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم لوگوں کے ساتھ ایک ایسی جنگ چھیڑ دیں، جو اس وقت تک ختم نہیں ہوگی، جب تک لوگ اپنا عقیدہ بدل کر مسلمان نہ ہو جائیں، اور دوسری طرف آیت کے الفاظ میں چونکہ محض کوشش اظہار دین کا ذکر نہیں ہے، بلکہ اظہار دین کو بالفعل وقوع میں لانے کا اعلان ہے۔ اس لیے اس آیت کو نصب العین کا ماخذ بنانے کا مطلب یہ ہوگا کہ اس میں جس” اتمام نور“ اور ”اظہار دین“ کا ذکر ہے، اس کو ہم اپنے دائرۂ عمل میں لازما وقوع میں لاکر چھوڑیں۔ حالانکہ معلوم ہے کہ انسان کے بس میں صرف کوشش کرنا ہے، نہ کہ کسی نتیجے کو وقوع میں لانا۔ اظہار دین کی آیت کے سلسلے میں ایک رائے یہ بھی منقول ہوئی ہے کہ اس کا مطلب رسول کو ساری شریعت کی تعلیم دینا اور اس سے باخبر کرنا ہے: لِيُعْلِمَهُ شَرَائِعَ الدِّينِ كُلِّهَا، فَيُطْلِعَهُ عَلَيْهَا (تفسیر الطبری، جلد 14 ، صفحہ (215)۔ یہ رائے مشہور صحابی حضرت عبد اللہ بن عباس کی ہے۔ عَنِ ابْنِ عَبّاسِ رضي الله عنه فِي قَوْلِﻪ تعالی لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ} قَالَ: ليظهر الله نبيه صلى الله عليه وسلم عَلَى أَمْرِ الدِّينِ كُلّه فيعطيه إيَّاه كُلَّه وَلَا يَخْفَى عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنْهُ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ وَاليَهُودُ يَكْرَهُونَ ذَلِكَ (الدر المنثور للسیوطی، جلد 4 ، صفحہ (175)۔ یعنی، عبداللہ بن عباس نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا، اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول کو دین کے سارے امور سے آگاہ فرمائے گا۔ وہ اس کو سارا دین عطا کرے گا اور اس پر اس کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader