Urdu book · تعبیر کی غلطی

دوسرا مرحلہ

Urdu book, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے، میں نے کہا نتائج تو بالکل بعد کی چیز ہیں، اصل میں نظریات ہی سے غور وفکر کا آغاز ہوا، اور تحریر مکمل کرنے کے بعد اس کے ساتھ نتائج بھی شامل کر دیے گئے۔ 16۔ ایک اور بزرگ نے فرمایا کہ اس تحریر میں بہت سی آیتیں اور حدیثیں جمع کی گئی ہیں اس سے بظاہر یہ شبہ ہوتا ہے گویا یہ بہت مدلل ہے، مگر کوئی بھی شخص جو عربی جانتا ہو وہ کسی بھی عنوان کے تحت اس طرح کے حوالے جمع کر سکتا ہے، مگر کچھ آیتیں اور کچھ حدیثیں جمع کر دینے کا یہ مطلب نہیں کہ اس کا دعویٰ بھی ثابت ہو گیا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اچھا بتائیے، کسی بات کو پیش کرنے کا وہ کون سا طریقہ ہے جس سے وہ بات مدلل طور پر ثابت ہو جاتی ہے یہی یا کوئی اور۔ انہوں نے جواب دیا۔ اس کا طریقہ بھی یہی ہے کہ متعلقہ نصوص سے اس کو ثابت کیا جائے۔ میں نے کہا جب میری تحریر اپنی شکل کے اعتبار سے ویسی ہی ہے جیسے کوئی واقعی معنوں میں مدلل تحریر ہوتی ہے تو آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ اس سے محض صوری طور پر مشابہت رکھتی ہے، وہ حقیقی طور پر اس سے مشابہ نہیں ہے۔ اس کے جواب میں انھیں چاہیے تھا کہ میری تحریر کے کسی حصہ کو لیتے اور اس کا تجزیہ کر کے بتاتے کہ دیکھو یہ بات جو تم نے کہی ہے، وہ بظاہر دلیل کے ساتھ معلوم ہوتی ہے، مگر حقیقتاً وہ بالکل بے بنیاد ہے۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ البتہ وہ اپنے اس بے دلیل اصرار پر قائم رہے کہ تمہارا دعویٰ دلائل سے ثابت نہیں ہوتا۔ 17۔ ایک صاحب سے گفتگو ہوئی۔ میں نے بتایا کہ جماعت اسلامی کی تعبیر دین کو میں کیوں غلط سمجھتا ہوں، بعض آیات جن سے اس تعبیر کے حق میں استدلال کیا جاتا ہے، ان کا تجزیہ کر کے بتایا کہ ان آیتوں سے وہ مفہوم نہیں نکلتا۔ انہوں نے میرے اعتراضات کا کوئی جواب نہیں دیا، اس کے بجائے یہ بحث چھیڑ دی کہ "حق پانے کی پہچان کیا ہے"۔ میں نے کہا آدم کی عقل اور اس کا قلب دونوں مطمئن ہو جائیں کہ حق یہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ خارجی معلومات اس کی تصدیق کرتی ہوں اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page