ایک شبہ
Urdu book, p. 300
By Maulana Wahiduddin Khan
کوئی چیز مخفی نہ رہ جائے گی۔ جب کہ مشرکین اور یہود اس کو ناپسند کر رہے تھے۔ اس تشریح کے مطابق یہاں "اظہار" کے معنی غلبہ کے نہیں ہیں، بلکہ بھید پر کسی کو مطلع کرنے کے ہیں۔ عربی میں اظہر علی کے یہ معنی بھی آتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: عالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَداً (72:26)۔ یعنی، غیب کا جاننے والا وہی ہے۔ وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ مگر جہاں تک میں سمجھتا ہوں، صحابی موصوف کی یہ تفسیر غلبہ کے مفہوم کی لازماً تردید نہیں ہے۔ بلکہ یہ ان حکمتوں میں سے ایک حکمت کا بیان ہے جس کے لیے آخری رسول کے ساتھ غلبہ دین کی مخصوص صورت اختیار کی گئی۔ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ اپنے رسول کو لازماً غالب کرے گا: كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي (58:21)۔ یعنی، اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے۔ مگر اس غلبہ کی صورت پچھلے انبیاء کے ساتھ عموماً یہ ہوئی ہے کہ انبیاء کے منکرین کو "عذاب مستاصل" کے ذریعہ ہلاک کر دیا گیا اور اہل ایمان کو ان سے نجات دے کر کسی آزاد خطہ میں پہنچا دیا گیا۔ مگر آخری رسول کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون جس شکل میں نافذ ہوا، وہ صاحب روح المعانی کے الفاظ میں، تَسْلِيطِ الْمُسْلِمِينَ عَلَى جَمِيعِ أَهْلِ الْأَدْيَانِ (روح المعانی، جلد 9، صفحہ 55) تھا۔ یعنی نبی کے دعوتی علاقہ میں منکرین کو مغلوب کر کے ان کے اوپر اہل ایمان کی حکومت قائم کرنا۔ یہ ایک مخصوص معاملہ تھا جو آخری رسول کے لیے علم الہی میں پہلے سے مقدر تھا۔ چنانچہ صحف بنی اسرائیل میں آسمانی بادشاہت کے نام سے لوگوں کو بہت پہلے سے اس کی خبر دی جاتی رہی ہے۔ قانون الہی کے اس مخصوص نفاذ کی حکمت کیا تھی، اس کو قرآن کی متعلقہ آیتوں میں "اتمام نور" سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہاں نور سے مراد خاص طور پر وہ احکام وہدایات ہیں جو دنیوی زندگی میں انسان کی رہنمائی کے لیے نازل کی جاتی ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رسولوں کی آمد کا سلسلہ بند کرنا ہے تو اس فیصلے کا لازمی تقاضا تھا کہ زندگی کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader