Urdu book · تعبیر کی غلطی

ایک شبہ

Urdu book, p. 301

By Maulana Wahiduddin Khan

سارے پہلوؤں سے متعلق احکام نازل کر دیے جائیں، جو قیامت تک ہر معاملہ میں انسان کی رہنمائی کرتے رہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ پورے دین کو لکھی ہوئی کتاب کی شکل میں یک بارگی نازل نہیں کیا جاتا۔ دین کی اصولی اور بنیادی تعلیمات تو انبیاء پر پہلے ہی مرحلہ میں اتار دی جاتی ہیں، مگر وہ تفصیلی احکام جن کا تعلق معاشرہ اور سیاست سے ہے، وہ اسی وقت اترتے ہیں، جب عملاً کوئی سیاسی اور معاشتی تنظیم قائم ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے انبیاء پر صرف بنیادی احکام اترے۔ ان کے مخاطبین نے چوں کہ اس حد تک اسلام کو قبول نہیں کیا تھا کہ ان کی الگ سیاست بنائی جا سکے، اس لیے ایسے احکام بھی ان کے اوپر نہیں اتر سکے۔ مگر آخری رسول کے سلسلے میں ایسی صورت حال کو گوارا نہیں کیا جا سکتا تھا۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ تھا کہ ساری زندگی سے متعلق تعلیمات نازل نہ ہو سکیں ۔ اور تمام پیش آنے والے معاملات کے لیے خدا کے دین میں رہنمائی موجود نہ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ آخری رسول کے لیے غلبہ کی اس مخصوص صورت کو اختیار کیا گیا اور آپ کو ”ملک عظیم“ یا ”آسمانی بادشاہت“ دی گئی۔ اس کے بغیر دین کی تکمیل یا بندوں پر نور الہی کا اتمام نہیں ہو سکتا تھا۔ چنانچہ سورۂ فتح میں غلبہ کی حکمت یہ بتائی گئی ہے، تا کہ اللہ تعالیٰ تم کو صراط مستقیم دکھادے: ﴿وَيَهْدِيَكَ صِرَاطاً مُّسْتَقِيماً﴾ (48:2)۔ صراط مستقیم کی ہدایت سے مراد یہاں تفصیلی احکام کا دیا جانا ہے جیسا کہ ابن کثیر نے لکھا ہے: أَيْ بِمَا يُشَرِّعُهُ لَكَ مِنَ الشَّرْعِ العَظِيمِ وَالدِّينِ القَيِّمِ (تفسیر ابن کثیر، جلد 7، صفحہ 327 ، سورہ الفتح)۔ یعنی، شریعت اور دین صحیح کے قوانین مقرر کر کے تمہارے لیے صراط مستقیم دکھائے۔ اگر اہل ایمان کو غلبہ اور تمکن نہ دیا جاتا اور انھیں اپنا ایک مستقل معاشرہ منظم کرنے کے مواقع نہ ملتے تو زندگی کے تمام حالات سے انھیں سابقہ پیش نہ آتا۔ اور اس طرح زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق احکام بھی نہ اترتے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ عملی حالات پیدا ہونے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page