Urdu book · تعبیر کی غلطی

تعبیر کی غلطی

Urdu book, p. 302

By Maulana Wahiduddin Khan

کے بعد ہی اس صورت معاملہ کے متعلق احکام نازل کیے جاتے ہیں — ان باتوں کو سامنے رکھیے تو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے زیرِ بحث آیت کی مندرجہ بالا تشریح کیوں کی ہے۔ یہ دراصل اس مخصوص حکمت کا بیان ہے، جو غلبہ دین کی اس اسکیم میں چھپی ہوئی تھی۔ اس بحث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دین کو غالب کرنے کا کام بس دورِ رسالت سے متعلق تھا، اور اب اس سلسلے میں ہمیں کچھ کرنا نہیں ہوگا۔ اصل میں جب بھی دین اور لادینیت کا مقابلہ ہو تو اس وقت مسلمانوں کا فرض ہو جاتا ہے کہ وہ دین کی طرف سے سینہ سپر ہو کر اس کو غالب کرنے کی جدوجہد کریں۔ مگر اسی کو علی الاطلاق اہل اسلام کا مشن قرار دینا اور دین کی تشریح اس طرح کرنا کہ یہی اصل کام کی حیثیت سے سامنے آجائے، صحیح نہیں ہے۔ حدیث سے استدلال حال میں مجھے ایک مضمون پڑھنے کا اتفاق ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ ”جماعت اسلامی نے اپنے لیے جو نصب العین اختیار کیا ہے اس میں جماعت کے کسی فرد کی پسند و ناپسند کا کوئی دخل نہیں ہے۔ بلکہ اسے اس بات پر یقین حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کرام کو اور آخر میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی نصب العین ، اسی مشن اور اسی مقصد کے لیے مبعوث فرمایا تھا۔ اور اب قیامت تک کے لیے ان کی نیابت میں امت محمدی کا یہی مقصدِ وجود ہے۔ اس طرح جماعت اسلامی کے نصب العین کا رشتہ، آپ سے آپ بعثت محمدی کے مقصد سے جڑ جاتا ہے۔ “ یہ نصب العین صاحب مضمون کے الفاظ میں یہ تھا — ” دنیا میں اللہ کی تشریعی حکومت قائم کرنا“، ”اللہ کے بھیجے ہوئے دین و شریعت کی تنفیذ اور دنیا کی اصلاح“، ”دین حق کو قائم کرنا اور اسے تمام ادیان باطلہ پر غالب کرنا“۔ صاحب مضمون کے نزدیک یہی ”بعثت محمدی کا مقصد“ تھا، ”جو کتاب اللہ میں بھی موجود ہے۔ احادیث رسول میں بھی پایا جاتا ہے اور اسلامی تاریخ میں بھی ملتا ہے۔“ ان کثیر دلائل میں سے انہوں نے اس مقالے میں صرف ایک حدیث پیش کی تھی، جو ان کے نزدیک ان کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page