Urdu book · تعبیر کی غلطی

حدیث سے استدلال

Urdu book, p. 303

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوے کو "بہ وضاحت ثابت کرتی ہے اور اس سلسلے کی دوسری نصوص کی "بہترین شرح" ہے۔ یہ امام بخاری کی ایک روایت ہے جس کو دوسرے محدثین نے بھی نقل کیا ہے۔ عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن العاص سے ملاقات کی اور ان سے دریافت کیا "مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ صفت بتائیے جو تورات میں بیان ہوئی ہو۔" اس کے جواب میں انہوں نے تورات میں مذکور آپ کی کچھ صفتیں بیان کیں۔ ان میں سے ایک صفت یہ تھی: وَلَنْ يَقْبِضَهُ اللَّهُ حَتَّى يُقِيمَ بِهَ الْمِلَّةَ الْعَوْجَاءَ، بِأَنْ يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَيَفْتَحَ بِهَا أَعْيُنًا عُمْيًا، وَآذَانًا صُمًّا، وَقُلُوبًا غُلْفًا (صحیح البخاری، حدیث نمبر (4558) - یعنی، اللہ اس وقت تک ان کی روح قبض نہ کرے گا جب تک ان کے ذریعہ سے ملت عوجا کو سیدھا نہ کرلے، اس طرح کہ لوگ لا الہ الا اللہ کہنے لگیں۔ پس وہ اس کے ذریعہ سے بہت سی اندھی آنکھوں، بہرے کانوں اور بند دلوں کو کھولے گا۔ اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے یہ نتیجہ نکالا گیا تھا - "سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد اقامت دین تھا۔ آپ کی بعثت سے سینکڑوں سال پہلے تورات میں یہ پیشین گوئی موجود تھی کہ جب تک دین قائم نہ ہو جائے آپ کی وفات نہ ہوگی۔" اور پھر مقالے کے آخر میں یہ اعلان تھا: " یہ تفصیل ہمارے اس یقین میں اضافہ کرتی ہے کہ جماعت اسلامی نے اپنے لیے جو نصب العین اختیار کیا ہے، اس میں اس نے کوئی غلطی نہیں کی ہے۔ بلکہ یہی نصب العین فی الواقع پوری امت مسلمہ کا نصب العین ہے، جس سے وہ غفلت برت رہی ہے۔" (زندگی، اپریل 1962ء) صاحب مضمون نے ملت عوجا کا ترجمہ "کج دین" کیا ہے۔ مگر بعد کو بان یقولو کا فقرہ بتاتا ہے کہ یہاں ملت بمعنی گروہ ہے۔ کیوں کہ کسی قول کا قائل اشخاص ہوتے ہیں، نہ کہ ان کا دین ۔ یہاں دراصل اللہ تعالیٰ کی اس مخصوص اسکیم کا ذکر ہے، جس کے مطابق آخری رسول کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page